Page Number :17

News

Calling for the Fifth Edition of the Festival of Commanders of Victory and Heroes of Fight Against  Global Terrorism Axes

The 'Victory Leaders and Heroes of Fighting Global Terrorism' Festival is a cultural and artistic event organized annually by the Cultural Consultancy of the Islamic Republic of Iran in Baghdad. It is held in honor of the heroic martyrs who sacrificed their lives in the fight against global terrorism. The festival aims to commemorate the great leaders, the martyrs Qasem Soleimani and Abu Mahdi al-Muhandis, along with their comrades, who demonstrated heroic epics in defending the land and honor

خراجِ عقیدت: ایرانی شہداء کی آن لائن تصویری نمائش

ہم پیشِ خدمت ہیں ایک خاص آن لائن گیلری، جہاں آپ دیکھ سکتے ہیں ان عظیم ایرانیوں کی تصویری جھلکیاں جنہوں نے اسرائیلی حملوں میں اپنی جانیں قربان کیں۔

سیل نمبر 14 آڈیو بک (اردو) آیت اللہ سید علی خامنہ ای زنداں سے پرے رنگ چمن

سیل نمبر 14 آڈیو بک (اردو) آیت اللہ سید علی خامنہ ای زنداں سے پرے رنگ چمن

ہم وطنوں، فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کے چالیسویں یوم شہادت کے موقع پر رہبر معظم کا ایرانی قوم کے نام پیغام۔

ہم وطنوں، فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کے چالیسویں یوم شہادت کے موقع پر رہبر معظم کا ایرانی قوم کے نام پیغام۔ ظالم اور مجرم صیہونی حکومت کے ہاتھوں ہم وطنوں، فوجی کمانڈروں اور ملک کے ممتاز ایٹمی سائنسدانوں کی شہادت کے چالیسویں دن پر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی قونصلر جناب مجید مشکی نے اسلام آباد میں اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرپرسن  ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ملاقات کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی قونصلر جناب مجید مشکی نے اسلام آباد میں اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ملاقات کی۔

اور دنیا کو کب پرواہ ہوگی؟ کتنے اور بچے بھوکے سونا سیکھیں گے؟

اور دنیا کو کب پرواہ ہوگی؟ کتنے اور بچے بھوکے سونا سیکھیں گے؟ کتنی ماؤں کو اپنے لختِ جگر کی لاشیں سینے سے لگانی ہوں گی؟ کتنے اور لوگ پیٹ پر پتھر باندھ کر زندہ رہنے کی جنگ لڑیں گے؟ کیا انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں رہی؟ کیا غزہ کے بچوں کا خون، تمہاری خبروں میں صرف ایک عدد بن کر رہ گیا ہے؟ کیا صرف وہی زندگیاں اہم ہیں جو خاموشی سے مر جاتی ہیں؟ یہ سوال صرف فلسطینیوں کا نہیں، انسانیت کا ہے۔ اگر تم آج خاموش ہو، تو کل تمہاری آواز بھی کوئی نہیں سنے گا۔ اب خاموشی جرم ہے۔ بولنا ضروری ہے

نہ صرف اُن کے ہاتھ اور سر جلے... بلکہ اُن کا پورا وجود جل کر خاکستر ہو گیا

نہ صرف اُن کے ہاتھ اور سر جلے... بلکہ اُن کا پورا وجود جل کر خاکستر ہو گیا۔ یہ صرف آگ کا نہیں، بے حسی کا بھی انجام تھا۔ انسانی جان، معصوم جسم، سب راکھ ہو گئے — اور دنیا خاموش تماشائی بنی رہی

آج کی دنیا ایک تہذیبی تصادم کا سامنا کر رہی ہے — ایک طرف ایران کو خطرہ قرار دیا جاتا ہے، اور دوسری طرف وہ آزاد دنیا جو خود جنگ و تباہی کی پالیسی پر گامزن ہے۔

آج کی دنیا ایک تہذیبی تصادم کا سامنا کر رہی ہے — ایک طرف ایران کو خطرہ قرار دیا جاتا ہے، اور دوسری طرف وہ آزاد دنیا جو خود جنگ و تباہی کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کی بنیاد اسرائیلی وزیراعظم نتنیاہو نے رکھی، جو غزہ میں قتل عام اور نسل کشی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کو اکسا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 41,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 15,000 بچے اور 10,000 خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل بیک وقت نسل کشی، نسلی تطہیر، اور اجتماعی سزا جیسے جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، جبکہ شمالی غزہ میں 7 لاکھ افراد، جن میں 3.5 لاکھ بچے شامل ہیں، قحط کا شکار ہیں۔ یہ ظلم آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر چھپایا جا رہا ہے، جبکہ اصل دہشت گردی قبضہ، قتلِ عام اور نسل کشی ہے۔

فونٹ سائز کی تبدیلی:

:

:

: