مشہور شخصیات

ابوالفضل بیهقی

ابوالفضل بیہقی نے اپنی تاریخ نویسی میں، رواج کے برعکس، بادشاہوں اور سلاطین کی کمزوریوں کی طرف بلا خوف وخطر نشاندہی کی اور گردن توڑنے والوں کی بات ہر گز نہیں مانی۔

ابوالفضل محمد بن حسین بیہقی حارث آباد بیہق یا پرانے سبزوار میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد نے انہیں بچپن سے ہی نیشا پور میں پڑھنے پر مجبور کیا۔ جب وہ جوان تھے تو نیشابور سے غزنین گئے اوروہاں دیوان لکھنے کے کام کی طرف رغبت ہوئی۔ خواجہ ابو نصر مشکان (دیوان رسالت محمود غزنوی کے مالک) نے اپنی منفرد دلچسپی اور قابلیت کے باعث انہیں اس مقصد کے لیے منتخب کیا۔ بیہقی ایک قابل اعتماد شخص تھے اور ان کی لکھائی اچھی تھی۔ خواجہ ابو نصر مشکان بیہقی کو اپنا معتمد اور قریبی دوست سمجھتے تھے اور انہیں غزنویوں کے نظام کے متعلق راز اور خبریں بتاتے تھے۔ کتاب "تاریخ بیہقی" لکھنے کے وقت یہ مسئلہ بیہقی کے لیے ایک بہترین وجہ بن گئی۔

تاریخ بیہقی

بیہقی کی تاریخ فارسی ادب کے شاہکاروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ان چند کتابوں میں سے ایک ہے جو منگولوں سے پہلے کے فارسی نثر کی رہ گئی ہیں۔ پرانی تحریروں میں شاید ہی کوئی ایسی کتاب ملے جو اپنی قدیم زبان کے ساتھ اپنے قارئین کے لیے اتنی پرکشش ہو۔ بیہقی تاریخ کی تصنیف کا آغاز 1056ء (448ھ) میں ہوا اور اس کا موضوع غزنویوں کی بادشاہت کے 42 سال کے واقعات تھے اور یہ 30 جلدوں میں لکھی گئی۔ چوتھی جلد تک اس کے مشمولات ناصری تاریخ اور یمینی تاریخ کے وہی مواد ہیں، جنکا پانچویں جلد سے آغاز غائب ہے۔کتاب کی جلد 10 تک دستیاب ہے اور اس کے بعد کی جلدوں میں 451 قمری سال کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ 30 جلدوں پر مشتمل یہ کتاب اس حقیقت کے علاوہ کہ اس کا موضوع تاریخ اور تاریخ نویسی ہے، واقعات کی درستگی اور ریکارڈنگ کے اعتبار سے نایاب اور امانت اور خصوصی فنکاری کی ادائیگی میں وابستگی اور واقعات کی تفصیلات کو بیان کرنے اور مختلف پہلوؤں کو دیکھنے کے لیے مسائل کے زاویے سے بے حد منفرد ہے۔ وہ کتاب جسے آج ہم تاریخ بیہقی کے نام سے جانتے ہیں، اس کا اصل نام تاریخ ناصری تھا۔ اس کتاب کے دیگر نام تاریخ الناصر، تاریخ السبکتگین، جامع التواریخ، جامع فی تاریخ سبکتگین اور تاریخ بیہقی ہیں۔ تاریخ بیہقی کے موجودہ حصے کو تاریخ مسعودی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ غزنوی کے سلطان مسعود کی زندگی سے متعلق ہے۔

فارسی نثر کا باپ

ابوالفضل بیہقی نے اپنی تاریخ نویسی میں روایت کے برعکس بادشاہوں اور سلاطین کی کمزوریوں کی طرف بلا خوف وخطر نشاندہی کی اور گردن توڑنے والوں کی بات نہ مانی۔ بیہقی تاریخ نویسی کے اصولوں میں قطعی نقطہ نظر اور سائنسی تنقید کے حامل تھے اور انہوں نے بغیر کسی خوف کے حق و سچ کا اظہار کیا ہے۔ اس بات پر اتفاق ہے کہ اس کتاب میں بیہقی نہ صرف ایک مورخ ہیں، بلکہ انہوں نے سماجی مسائل اور جغرافیائی حالات کو بڑی احتیاط اور دلجوئی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ تاریخ بیہقی خوبصورت ضرب الامثال، احکام اور پند و نصائح کا انمول خزانہ ہے۔ یہ لازوال تصنیف ایک طرح کا ادب اور تاریخ ادب ہے جسے کلاسیکی تحریروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب شعری تراکیب، ادبی اصطلاحات، سریلی نثر اور نظموں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، اس کتاب کی تصنیف کی وجہ سے ابوالفضل بیہقی کو فارسی نثر کا باپ کہا جاتا ہے۔ بیہقی نے نثر لکھنے میں اپنے استاد ابو نصر مشکان کے انداز کی پیروی کی۔ بیہقی کی تاریخ کی نثر کی سب سے اہم خصوصیات یہ ہیں:

  1. طویل تحریر بیہقی سے پہلے کے دور کی مختصر تحریر کے برخلاف، یہ طویل تحریر اس طرح کے فقروں میں کوئی دشواری پیدا نہیں کرتی اور مواد کی تفصیلات اور مقصد کو اچھی طرح واضح کر تی ہے۔
  2. ایسی تفصیلات اور تذکرے جو واقعات کو قاری کے سامنے رکھتے ہیں اور واقعات کے تمام اجزا کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
  3. شواہد اور تمثیلات کا استعمال۔
  4. گرائمر کی خصوصیات۔
  5. زمانے کے عام فارسی محاوروں اور اصطلاحات کا استعمال۔

بیہقی نے افسانہ ادب کے مصنفین کی طرح واقعات، افراد کی خصوصیات اور رد عمل کو مکمل طور پر پیش کیا ہے اور واقعات کو کہانی کی طرح بیان کیا۔

ابوالفضل بیہقی کی وفات

ابوالفضل بیہقی 85 سال زندہ رہے اور تاریخ کے مطابق آپ نے 1077ء (470ھ) میں وفات پائی۔ تاریخ بیہقی لکھنے کے 19 سال بعد تک آپ زندہ رہے اور جب بھی آپ کو کوئی نئی ​​معلومات ملتیں تو انہیں اس کتاب میں شامل کرتے۔ 24 فروری، ایران کے قومی کیلنڈر کے مطابق، یکم آبان شمسی کو بیہقی کی یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔

مشہور شخصیات

ابوالفضل بیهقی؛ پدر آثار منثور فارسی

ابوالفضل بیهقی، در تاریخ‌نگاری، بر خلاف آن چه مرسوم بود، بدون ترس، ضعف پادشاهان و سلاطین را گوشزد می‌کرد و در برابر گردن‌کشان سر طاعت نداشت.

ابوالفضل محمد بن حسین بیهقی در حارث‌آباد بیهق یا سبزوار قدیم متولد شد. پدرش او را از همان دوران کودکی در نیشابور به دانش‌‏اندوزی واداشت. او در جوانی از نیشابور به غزنین رفت و جذب کار نگارش دیوان شد. با علاقه و استعداد بی‌نظیری که داشت، خواجه ابونصر مشکان (صاحب دیوان رسالت محمود غزنوی) او را به این سمت انتخاب کرد. بیهقی شخصی مورد اعتماد بود و خطی خوش داشت. خواجه ابونصر مشکان، بیهقی را محرم و یار نزدیک خود می‌دانست و اسرار و اخبار دستگاه غزنوی را با او در میان می‌گذاشت. این موضوع در زمان نگارش کتاب «تاریخ بیهقی» برای بیهقی سرمایه ارزشمندی شد. 

تاریخ بیهقی

تاریخ بیهقی از شاهکارهای ادب فارسی به شمار می‌رود و یکی از چند کتاب معدودی است که از نثر فارسی پیش از مغول مانده است. در میان نوشته‌های قدیم کمتر کتابی را می‌توان یافت که بتواند با کهنگی زبان تا این اندازه برای خوانندگان خود جذابیت داشته باشد. آغاز تألیف تاریخ بیهقی سال ۴۴۸ هجری قمری (1056 میلادی) و موضوع آن، رویدادهای 42 سال از پادشاهی غزنویان بوده و در 30 جلد نوشته شده است. مطالب آن تا جلد چهارم همان مطالب تاریخ ناصری و تاریخ یمینی است. از جلد پنجم -که ابتدای آن از میان رفته است- تا جلد دهم کتاب موجود است و جلدهای بعدی وقایع سال ۴۵۱ قمری را روایت می‌کند. این کتاب 30 جلدی، علاوه بر آنکه موضوع آن تاریخ و تاریخ‌نگاری است، از جهت دقت و ضبط وقایع و تعهد در ادای امانت و هنرمندی خاص و به تصویر کشاندن جزئیات حوادث و نگریستن به زوایای مختلف مسائل کم‌نظیر و شاید بی‌نظیر است. کتابی که امروز ما آن را به نام تاریخ بیهقی می‌شناسیم، نام اصلی‌اش «تاریخ ناصری» بوده است. تاریخ آل ناصر، تاریخ آل سبکتگین، جامع التواریخ، جامع فی تاریخ سبکتگین و سرانجام تاریخ بیهقی نام‌های دیگر این کتاب است. بخش موجود تاریخ بیهقی را به علت پرداختن به دوران زندگی سلطان مسعود غزنوی تاریخ مسعودی نیز می‌نامند. 

بیهقی پدر نثر فارسی

بیهقی، در اصول تاریخ‌نگاری دیدی دقیق و نقد علمی داشت و حقیقت و حق مطلب را بی هیچ واهمه‌ای بیان می‌کرد. این اتفاق نظر وجود دارد که بیهقی در این کتاب نه تنها یک مورخ است، بلکه مسایل اجتماعی و اوضاع جغرافیایی را با دقت و وسواسی تمام بیان کرده است. تاریخ بیهقی، گنجینه‌ای ارزشمند از امثال و حکم و پند و اندرز است. این اثر ماندگار نوعی ادبیات و تاریخ ادبیات است که از متون کلاسیک به حساب می‌آید. این کتاب سرشار از فنون بلاغت، آرایه‌های ادبی، نثری آهنگین و نیز نمونه اشعار است. به سبب نگارش این کتاب، ابوالفضل بیهقی به عنوان پدر نثر فارسی شناخته می‌شود. بیهقی در نثرنویسی پیرو سبک استادش، ابونصر مشکان بوده است. مهم‌ترین ویژگی‌های نثر تاریخ بیهقی عبارت است از: 1. طولانی‌نویسی، در مقابل کوتاه‌نویسی دوره قبل از بیهقی. این طولانی‌نویسی به گونه‌ای است که در عبارت‌ها خللی ایجاد نمی‌کند و جزئیات مطالب را روشن و مقصود را به‌خوبی بیان می‌کند. 2. توصیفات و ذکر جزئیاتی که خواننده را در برابر وقایع قرار می‌دهد و به تمام اجزای وقایع رهنمون می‌سازد. 3. به کار بردن استشهاد و تمثیل. 4. رعایت برخی ویژگی‌های دستوری و 5. ذکر امثال و اصطلاحات فارسی متداول در آن روزگار. بیهقی به وقایع و اشخاص و ویژگی‌ها و واکنش‌های آنان، همچون نویسندگان ادبیات داستانی پرداخته و واقعه را مانند داستان شرح داده و به انجام رسانده است. 

درگذشت ابوالفضل بیهقی

ابوالفضل بیهقی ۸۵ سال زندگی کرد و در ۴۷۰ هجری قمری (1077 میلادی) از دنیا رفت. او ۱۹ سال پس از نگاشتن تاریخ بیهقی زنده بود و هر گاه به اطلاعات تازه‌ای دسترسی می‌یافت، آن را به متن کتاب اضافه می‌کرد.
روز 24 فوریه مصادف با اول آبان‌ماه، در تقویم ملی ایران، به عنوان روز بزرگداشت بیهقی نام‌گذاری شده است.