مشہور شخصیات

خواجہ شمس الدین حافظ شیرازی رح

حافظ کی شاعری میں ناؤ نوش، مے و نغمہ اور شاہد و شراب کا ذکر بار بار آتا ہے۔ وہ طرح طرح سے عشقیہ مضامین باندھتے ہیں، ان میں تازگی و شگفتگی ہوتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس راہ سے گزرے ہیں اور عشق مجازی کی وادیوں کی سیر کی ہے۔ وہ عشق کے اسرار و رموز کو اپنے اشعار میں کہیں پنہاں اور کہیں آشکارا بیان کرتے ہیں۔

حافظ کا نام محمد ،لقب شمس الدین اور تخلص حافظ تھا۔ حافظ نے خود اپنا نام یوں تحریر کیا ہے : محمد بن المقلب بہ شمس الحافظ الشیرازی۔ حافظ شیرازی کے والد بہاء الدین اصفہان میں قیام پذیر تھے۔ وہ اتابکوں کے عہد میں شیراز آئے اور یہیں رہ گئے۔ خواجہ حافظ کی والدہ گاذرون کی رہنے والی تھیں۔ بہاء الدین کا پیشہ تجارت تھا اس لیے انھوں نے خوش حال زندگی بسر کی۔ ان کے تین لڑکے تھے۔ سب سے چھوٹے خواجہ حافظ تھے۔ والد کے انتقال کے بعد بھائیوں نے سب مال و متاع ختم کر دیا اور دونوں بھائی شیراز چھوڑ کر تلاش معاش میں نکل گئے لیکن والدہ حافظ کے ساتھ شیراز ہی میں رہیں۔ مفلسی کی بنا پر انھوں نے اپنے لڑکے کو ایک شخص کے سپرد کر دیا۔ حافظ کو اس کا طور و طریق پسند نہ آیا اس لیے انھوں نے نانبائی کی دوکان پر خمیر گری شروع کی۔ جو مزدوری ملتی اس کو تین حصوں میں تقسیم کرتے۔ ایک حصہ والدہ کو دیتے، ایک استاد کو اور تیسرا خیرات کر دیتے۔ اس طرح انھوں نے تعلیم بھی حاصل کی اور قرآن بھی حفظ کر لیا۔ ان کے اساتذہ میں قوام الدین عبد اللہ ((۱۳۸۰)) بھی تھے۔ حافظ نے اس دور کی اعلی تعلیم پائی۔ قرآن حفظ کیا اور اس کا گہرا مطالعہ کیا۔ اسی مناسبت سے حافظ تخلص اختیار کیا۔ انھوں نے جب شعر گوئی شروع کی تو شیراز میں شعر و شاعری کا چرچا تھا۔ حافظ نے کم سنی کے باوجود شعر کہے اور محفلوں میں سنائے۔

حافظ نے چار بادشاہوں کا زمانہ دیکھا۔ شیخ جمال الدین ابو اسحاق اینجو ان کا بہت قدرداں تھا۔ اس کے بعد مبارز الدین نے حکومت اپنے ہاتھ میں لی۔ لیکن پانچ سال سے زیادہ حکومت کرنے کا موقع نہ ملا۔ اس کے بیٹے جلال الدین شاہ شجاع ((۱۳۵۷ - ۱۳۸۴)) نے تخت پر جلوس کیا پھر اس کے بھیدی جے شاہ منصور بن شرف الدین مظفر بن مبارز الدین ((۱۳۸۷ - ۱۳۹۲)) کو شیراز کی حکومت ملی۔ حافظ نے اپنی غزلوں میں اں سب کی تعریف کی ہے۔ بادشاہوں کے علاوہ اور بھی نام ان کی غزلوں میں ملتے ہیں ایک قطعہ میں پانچ نام آئے ہیں۔ شاہ ابو اسحاق، شیخ امین الدین ابدالی، قاضی عضد الدین عبد الرحمن یحیی ((م۔ ۱۳۵۵)) جن کی تصنیف علم کلام میں "مواقف" شاملِ درس رہی ہے۔ حاجی قوام الدین حسن، مالیات کی محصلی کے عہدہ پر فائز تھے اور پانچویں مجد الدین اسماعیل ((م۔ ۱۳۵۵)) قاضی شیراز اور مدرسہ مجدیہ کے بانی اور معلم۔ حافظ کے ان سب سے خوشگوار تعلقات تھے۔ حافظ کی شہرت ایران سے باہر بھی پہنچی۔ چنانچہ سلطان احمد بن شیخ اویسی ((۱۳۸۲ - ۱۴۱۰)) والئی بغداد نے حافظ کو بغداد آنے کی دعوت دی۔ محمود شاہ بہمنی ((۱۳۷۸ - ۱۳۹۷)) نے انھیں گلبرگہ (دکن) بلایا۔ غیاث الدین بن سکندر نے بنگالہ آنے کے لیے زاد راہ بھیجا لیکن انھوں نے غزلیں بھیج دینے پر اکتفا کیا اور کہیں نہ گئے۔ دکن جانے کے لیے ہرمز (بندرگاہ) تک آئے۔ کشتی میں بیٹھے لیکن باد مخالف سے ان کا ارادہ فسخ ہو گیا۔

دراصل انھیں خاک مصلی اور رکنا باد چھوڑنا گوارا نہ تھا۔ ہرمز کے علاوہ دو سفر اور کیے ایک نصرت الدین کی طلبی پر یزد اور آخری عمر میں شاہ منصور کی طلبی پر اصفہان گئے۔

حافظ کی شاعری میں ناؤ نوش، مے و نغمہ اور شاہد و شراب کا ذکر بار بار آتا ہے۔ وہ طرح طرح سے عشقیہ مضامین باندھتے ہیں، ان میں تازگی و شگفتگی ہوتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس راہ سے گزرے ہیں اور عشق مجازی کی وادیوں کی سیر کی ہے۔ وہ عشق کے اسرار و رموز کو اپنے اشعار میں کہیں پنہاں اور کہیں آشکارا بیان کرتے ہیں۔ جب وہ عمر کی ایک خاص منزل پر پہنچتے ہیں تو ان میں خدا شناسی اور تصوف کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور یہی مے و نغمہ اور شاہد و شراب، مستی و سرشاری کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اب وہ سنائی، عطار، مولانائے روم اور سعدی کا مسلک اختیار کرتے ہیں اور توحید اور تصوف کے مضامین خواہ قصیدہ ہو یا غزل ہر صنف میں ادا کرتے ہیں۔ وہ چونکہ حقیقت کے پرستار ہیں اس لیے مکر و ریا اور تزویر سے متنفر ہیں اسی لیے وہ شیخ و زاہد پر لعن طعن کرتے اور ان کے خرقہ سالوسی کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بیشتر شعرا کے کلام کو پیش نظر رکھا ہے لیکن ان کی تقلید نہیں کی۔ وہ اپنے کلام کی نغمگی و حلاوت اور عذوبت سے پیشروؤں سے آگے نکل گئے۔ حافظ نے اچھوتا تخیل پیش کیا ہے اور ایسے الفاظ، اصطلاحیں اور ترکیبیں فارسی ادب کو دی ہیں جو اس سے پہلے اس میں نہ تھیں یا تھیں تو اپنے معانی محدود رکھتی تھیں۔ ان کے اشعار میں صنائع و بدائع بھی ملتے ہیں اور تشبیہوں اور استعاروں کی بھی کمی نہیں۔ غرض حافظ نے تغزل، تعشق اور تصوف کو جس طرح شیر و شکر کیا اس کا کوئی جواب نہیں۔

حافظ نے جب عشق حقیقی اختیار کیا تو ان کا شباب آخری منزلیں طے کر رہا تھا۔ وہ جذب و کیف کے عالم میں رہتے۔ چنانچہ حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ اپنی سیاحت کے دوران شیراز پہنچے تو حافظ سے ملے۔ وہ اپنے ملفوظات میں حافظ کو "بیچارہ مجذوب شیرازی" کہتے ہیں۔ آپ نے شیراز میں زیادہ عرصہ تک قیام کیا اور حافظ سے کئی ملاقاتیں کیں اور اپنی یہ رائے دی کہ "ہر چند کہ مجذوبان روزگار" محبوبان کرد گار را دیدہ بودیم اما مشرب و بے بسیار عالی یافتیم"۔

حافظ نے ۱۳۸۹ میں شیراز میں وفات پائی اور اپنے محبوب مقام "مصلی" میں دفن ہوئے۔

مشہور شخصیات

حافظ

حافظ کے اشعار فارسی زبان کی خوبصورتی کا مظہر ہیں

"دیوان حافظ" ان کتابوں میں سے ایک ہے جو اکثر ایرانیوں کے گھروں میں پائی جاتی ہیں۔

حافظ، "لسان‌الغیب" اور "شیرین سخن"

دیوان حافظ کی غزلیں لوگوں کے لیے رہنما ہیں۔ لوگ، حافظ کے جس دیوان کو بھی نیت سے کھولتے ہیں، اسکے اشعار سے نیک فال کی امید رکھتے ہیں، گویا فال کے ذریعہ حافظ سے اپنے نیک کام میں بہتری یا مشکل کی تصدیق حاصل کرتے ہیں۔ سردیوں کی طویل راتوں، خاص طور پر "شب یلدہ" میں، جو موسم خزاں کا آخری دن اور سردیوں کی پہلی رات ہے، لوگ خاندانی محفلوں میں حافظ کی غزلیں پڑھتے اور ان کی بہترین تشریح کرتے ہیں۔ اگر آپ کو ایران کے بڑے شہروں میں سفر کرنے کا موقع ملا ہو تو، آپ کو ایران کی بڑی شاہراوں  پر ایسے لوگ ضرور ملیں گے جو آپ کو اپنی قسمت جاننے کے لیے تھوڑی دیر انتظار کرنے کا کہیں گے تاکہ وہ آپ کیلئے فال نکال سکیں۔ وہ حافظ کے دیوان سے فال نکالتے ہیں۔ در حقیقت ایرانی لوگ دیوان حافظ کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ، چونکہ یہ شاعر پورے قرآن کریم کا حافظ ہے، لہذا اسرار الٰہی سے لبریز ہے، لہذا ہمارے مستقبل کے بارے میں بخوبی  بتا سکتا ہے۔ ایرانیوں میں حافظ کو "لسان الغیب" بھی کہا جاتا ہے۔ جسکا مطلب ہے کوئی ایسا شخص جو پوشیدہ رازوں کے بارے میں جانتا ہو۔ اسی طرح فصاحت زبان کی وجہ سے ایرانی حافظ کو " شاعر شریں"  یعنی میٹھا  شاعر کہتے ہیں۔

حافظ اور گوئٹے

"حافظ"، خواجہ شمس الدین محمد کا تخلص ہے اور تخلص ان شاعروں کا شاعرانہ نام ہوتا ہے جسے وہ نظم کے آخر میں بیان کرتے  ہیں۔ حافظ نے جوانی سے ہی قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور پورا قرآن کریم حفظ کر لیا۔ آپ نے قرآن کریم کی  14 مختلف قرائتوں کے مطابق حفظ کیا ۔ حافظ کو عربی ادب اور اسلامی علوم پر مکمل عبور حاصل تھا اور علم تفسیر، علم کلام، حکمت اور آداب اسلامی پر بھی تسلط تھا۔ حافظ کے زیادہ تر اشعار غزلوں پر مبنی ہیں۔ لغت میں غزل کا مطلب محبوب سے بات کرنا اور اس سے اظہار محبت کرنا ہے  اور ادب میں غزل سے مراد ایک ایسی نظم ہے جس میں نظم کے دونوں مصروں  کا قافیہ اور ردیف نظم کے پہلے مصرے کے  قافیہ اور ردیف سے مطابقت رکھتا ہو۔ فارسی ادب کی مشہور شخصیات میں حافظ غزلیاتی شاعری میں بے مثل و مثال ہے۔  یہی وجہ ہے کہ حافظ کی غزلوں کا دیوان قرآن کریم کے بعد ایران میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہے۔ نوجوان نسل بھی حافظ اور اسکی غزلوں کو پسند کرتی ہے۔ حافظ فردوسی، نظامی گنجوی، مولانا، سعدی، عراقی، خواجوئی کرمانی، عبید زاکانی اور سلمان ساوجی جیسے اپنے سے پہلے فارسی ادب کے ممتاز شاعروں سے بہت متاثر تھے اور اپنے سے بعد والے شعراء کو بہت متاثر کیا۔ حافظ سے متاثر غیر ایرانیوں میں جرمن کا شاعر گوئٹے بھی شامل ہے۔ گوئٹے نے اپنا "مشرقی مغربی دیوان" حافظ کے دیوان کے زیر اثر ہی لکھا۔  مشہور ہے کہ گوئٹے نے حافظ کو مخاطب کر کے کہا: "اے حافظ میری خواہش ہے کہ میں صرف آپ ہی کا شاگرد بنوں"۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی میں حافظ کی نظموں کا یورپی زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا۔

حافظ کا ایران کے شہر شیراز میں انتقال

حافظ  1325ء (726ھ قمری) میں شیراز میں پیدا ہوئے اور1386ء ( 792ھ قمری)  میں شیراز ہی میں وفات پائی۔ دیوان حافظ کی پہلی غزل" اَلا یا اَیُّهَا السّاقی اَدِرْ کَأسَاً و ناوِلْها، "جس نے پہلے محبت کو تو آسان بنایا، مگر پھر مصیبتوں نے گھیر لیا۔" سے شروع ہوتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ "غزل فاتحہ"، جب  آئے ہو، تھکے ہوئے کے سر پر تو پڑھو، اپنے ہونٹ کھولو، کیونکہ تیرے ہونٹ سے ٹپکنے والے لعل و گوہر مردے میں جان ڈال دیتے ہیں۔ "جو سوال کرنے آتا ہے، اور فاتحہ پڑھ کر چلا جاتا ہے، گویا میں اپنے جسم کی  روح کو اسکی طرف بھیجتا ہوں" حافظ کے دیوان کی آخری غزل ہے۔ حافظ کی وفات کے تقریباً 65 سال بعد پہلی بار ان کی قبر پر ایک مقبرہ بنایا گیا۔ شیراز میں حافظ کا مرقد "حافظیہ" کے نام سے مشہور ہے۔

حافظ کے اشعار اور روایتی موسیقی

حافظ کی شاعری نے روایتی ایرانی موسیقی کی کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔ شیراز میں حافظ کا مقبرہ ایک سر سبز و شاداب باغ کے وسط میں واقع ہے۔ حافظ کےچاہنے والے  مرحوم محمد رضا شجریان (ایران میں روایتی موسیقی کے سب سے مشہور گلوکار) کی آواز میں حافظ کی غزلون پر مبنی روایتی موسیقی سننے کے لیے اسکے مقبرے کے صحن میں گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔ حافظ کی شاعری روایتی موسیقی کے ذریعے ایرانی عوام کے دلوں پر دو برابر اثر انداز ہوئی۔ ایرانی کیلنڈر کے مطابق 12اکتوبر(شمسی مہینے مہر کی20 تاریخ)  کو یوم حافظ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہر سال اس دن  ایران کے شیراز شہر میں دنیا بھر کے محققین کی موجودگی میں حافظ کی یاد میں تقریب منعقد کی جاتی ہے۔

مشہور شخصیات

معجزه اشعار حافظ

اشعار حافظ اوج زیبایی زبان پارسی را به نمایش گذاشته است.

دیوان حافظ از جمله کتاب‌هایی است که در اکثر خانه‌های مردم ایران یافت می‌شود. 

حافظ، لسان‌الغیب و شیرین‌سخن

غزل‌های دیوان حافظ راهنمای مردم است. مردم دیوان حافظ را با نیت باز می‌کنند و امیدشان به بیت‌های حافظ است تا آن را به معنای خوش‌یمنی و عاقبت خوش کارشان تعبیر کنند. مردم در شب‌های طولانی زمستان مخصوصا در شب یلدا -آخرین روز پاییز و اولین شب زمستان- غزل‌های حافظ را در جمع‌های خانوادگی می‌خوانند و تفسیر می‌کنند. اگر در شهرهای بزرگ ایران تردد کنید شاید در خیابان‌‎های بزرگ، به افرادی برخورد کنید که از شما بخواهند کمی درنگ کنید تا فالتان را بگیرند. آن‌ها فال حافظ می‌گیرند. ایرانیان بر این باور هستند که دیوان حافظ به دلیل اینکه این شاعر حافظ کل قرآن است، بر گرفته از اسرار الهی است و می‌تواند از آینده آن‌ها خبر دهد. حافظ در بین ایرانیان به «لسان‌الغیب» معروف است؛ یعنی کسی که از اسرار نهان و پنهان خبر دارد. همچنین به دلیل شیوایی سخن و کلامش ایرانیان به حافظ «حافظ شیرین‌سخن» هم می‌گویند.

حافظ و گوته

«حافظ»، تخلص خواجه شمس‌الدین محمد است. تخلص، نام شعریِ شاعران است که در پایان شعر می‌آورند. حافظ از دوران جوانی، آموختن قرآن را شروع کرد و حافظ کل قرآن شد. وی قرآن را به 14 روایت مختلف از بر بود. حافظ بر ادبیات عرب و علوم اسلامی تسلط کامل داشت و در تفسیر، کلام، حکمت و ادب به مرحله استادی رسیده بود. بیشتر شعرهای حافظ در قالب شعری «غزل» است. غزل در لغت به معنای «سخن گفتن با معشوق و عشق‌ورزی با اوست» و معنی غزل در ادبیات؛ شعری است که قافیه و ردیف مصراع‌های زوج با قافیه و ردیف مصراع اولِ بیت اول هم‌خوانی دارند. در بین مشاهیر حوزه ادبیات فارسی، حافظ در غزل‌سرایی مانند ندارد. به همین علت دیوان غزل‌های حافظ امروز هم بعد از قرآن پرفروش‌ترین کتاب در ایران است. نسل جوان هم با حافظ و غزل‌هایش همنشین هستند. حافظ از شاعران برجسته ادب فارسی پیش از خود چون فردوسی، نظامی گنجوی، مولانا، سعدی، عراقی، خواجوی کرمانی، عبید زاکانی و سلمان ساوجی تاثیرات فراوانی گرفته و بر شاعران پس از خود بسیار تاثیر نهاده است. از جمله افراد غیرایرانی نیز که از حافظ تأثیر پذیرفته‌ است، گوته آلمانی است. گوته «دیوان شرقی غربی» خود را تحت تاثیر دیوان حافظ، سروده است. مشهور است که گوته خطاب به حافظ گفته است: «ای حافظ، آرزوی من آن است که فقط مریدی از مریدان تو باشم». در قرن‌های هجدهم و نوزدهم میلادی اشعار حافظ به زبان‌های اروپایی ترجمه شد. اشعار حافظ به موفقیت موسیقی سنتی ایران کمک کرده است. از دیگر سو، شعر حافظ نیز از طریق موسیقی سنتی دو چندان بر دل مردم ایران نشسته است.

درگذشت حافظ

حافظ در سال 726 هجری قمری (1325 میلادی) در شیراز متولد شد و در سال 792 هجری قمری (1386 میلادی) در شیراز درگذشت. دیوان حافظ با غزل «اَلا یا اَیُّهَا السّاقی اَدِرْ کَأسَاً و ناوِلْها/ که عشق آسان نمود اوّل ولی افتاد مشکل‌ها» شروع می‌شود و گفته می‌شود غزل «فاتحه‌ای چو آمدی، بر سر خسته‌ای بخوان/ لب بگشا که می‌دهد، لعل لبت به مرده جان. آن که به پرسش آمد و فاتحه خواند و می‌رود/ گو نفسی که روح را، می‌کنم از پیَش روان» آخرین غزل حافظ است. نخستین بار حدود 65 سال بعد از درگذشت حافظ، مقبره‌ای در آرامگاه او ساخته شد. آرامگاه حافظ در شیراز با نام «حافظیه» شناخته می‌شود. آرامگاه حافظ در شیراز در دل یک باغ سرسبز قرار دارد.
روز 12 اکتبرمصادف با 20 مهرماه، در تقویم ملی ایران، به عنوان روز بزرگداشت حافظ نام‌گذاری شده است. هر ساله در این روز مراسم بزرگداشت حافظ با حضور پژوهشگرانی از سراسر دنیا در شهر شیراز برگزار می‌شود.
مشہور شخصیات

شاهنامه فردوسی؛ حافظه تاریخی مردم ایران

ایرانیان زنده نگه‌داشتن یاد و نام حکیم ابولقاسم فردوسی را مساوی با زنده نگه داشتن هویت ملی و فرهنگی خود می‌دانند.

«حکیم ابوالقاسم فردوسی» بزرگ‌ترین شاعر حماسه‌‌سرای ملی ایران است. نام فردوسی با حماسه گره خورده است. معنای ساده حماسه، دلیری و شجاعت است. قهرمان حماسه در داستان و شعر؛ از نیروی جسمانی و معنوی مثال‌زدنی برخوردار است. توانایی‌های این قهرمان بیشتر از یک فرد معمولی است. 

فردوسی، پیش از شاهنامه

حکیم ابوالقاسم فردوسی، سال 329 هجری قمری مصادف با سال 940 میلادی در روستای باژ، از توابع شهر طوس در استان خراسان رضوی به دنیا آمد. این شاعر بزرگ و نامدار ایران، دهقان‌زاده بود. خواندن و نوشتن را در مکتب‌خانه روستای باژ آموخت و برای ادامه تحصیل به مدرسه شهر طوس رفت. فردوسی در این مدرسه با «ابومنصور محمد بن احمد» مشهور به دقیقی توسی آشنا شد. دقیقی، از نخستین حماسه‌سرایان در تاریخ ادبیات فارسی ایران است. دقیقی، 30 سال عمر کرد و در این مدت تلاش کرد داستان‌های ملی ایران را از کتاب «شاهنامه ابومنصوری» به شعر درآورد. دقیقی هزار بیت درباره داستان گشتاسب و ظهور زردشت سرود، اما به دست غلام خود کشته شد. فردوسی با آگاه شدن از کار ناتمام دقیقی توسی، تصمیم گرفت این کار را به پایان برساند. منبع شاهنامه، کتاب منثور شاهنامه ابومنصوری است و فردوسی هزار بیت دقیقی را هم در شاهنامه آورده است.

شاهنامه فردوسی، حیثیت قوم ایرانی

فردوسی به داستان‌های کهن علاقه داشت. در زمان حیاتش، سامانیان بر ایران حکومت می‌کردند. در دوران حکومت سامانیان زبان فارسی دری پیشرفت زیادی کرد. سامانیان با اینکه زبان رسمی و اداری را عربی اعلام کرده بودند، اما اجازه دادند شاعران پارسی به زبان محلی خود شعر بگویند. فردوسی از این فرصت استفاده کرد و توانست با سرودن شاهنامه نگرش ملی و انسانی و جهان‌بینی انسان ایرانی را تعالی ببخشد. فردوسی با شاهنامه توانست ریشه‌ها، گذشته و افتخارات قوم ایرانی را برای همیشه در تاریخ ثبت و ماندگار کند.
از شاهنامه به عنوان حیثیت قوم ایرانی نام می‌برند. رستم، سهراب، کاوه آهنگر و سیمرغ شخصیت‌های مثبت و ضحاک و کیکاووس شخصیت‌های منفی شاهنامه هستند. قهرمان اصلی شاهنامه، رستم است. رستم به عنوان یک شخصیت ایرانی قدرت زیادی دارد و با دیوها مبارزه می‌کند و همه آنها را شکست می‌دهد. داستان رستم و اسفندیار هم بیش از هزار سال است، در بین مردم جا باز کرده است. کتاب شاهنامه از سه دوره اساطیری، پهلوانی و تاریخی تشکیل شده است.
به خاطر فردوسی و کتاب عظیم شاهنامه، بزرگان ادب و شعر ایران، دوره سامانیان یعنی سده چهارم قمری (قرن دهم و یازدهم میلادی) را مهم‌ترین دوره حماسه‌سرایی در ایران می‌دانند.

بنای مستحکم فردوسی

حکیم ابوالقاسم فردوسی، سال 402 هجری قمری مصادف با سال 1032 میلادی بعد از 73 سال زندگی در زادگاهش از دنیا رفت. 25 اردیبهشت‌ماه برابر با چهاردهم مه، در تقویم ملی ایران، «روز بزرگداشت فردوسی» و «پاسداشت زبان و ادب فارسی» نامگذاری شده است. ایرانیان زنده نگه داشتن یاد و نام حکیم ابولقاسم فردوسی را مساوی با زنده نگه داشتن هویت ملی و فرهنگی خود می‌دانند. آرامگاه فردوسی 28 کیلومتر با روستای باژ فاصله دارد. خشت خشت این بنا به دلیل عظمت و استواری آن بازدیدکنندگان را به یاد حماسه فردوسی در سرودن شاهنامه می‌اندازد. زبان فارسی و ایرانیان مدیون فردوسی هستند، درست همان طور که خود فردوسی سروده است: «بسی رنج بردم در این سال سی/ عجم زنده کردم بدین پارسی».