مشہور شخصیات

ابوعلی مسکویه

اسلامی مفکرین کی تاریخ میں ابن مسکویہ کا مقام اخلاقیات اور بالخصوص سیاسی اخلاقیات کے حوالے سے بہت نمایاں ہے۔ ان کا تعلق اسلامی مفکرین کے ایک ایسے طبقے سے ہے جو عقل اور حکمت کو خاص اہمیت دیتا ہے۔

ابو علی احمد بن محمد بن یعقوب مسکویہ رازی  932ء (320ھ)  میں اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر رے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی زندگی کے پہلے 20 سال شہر رے میں  ہی گزارے۔ اور باقی زندگی رے، بغداد، شیراز اور اصفہان جیسے شہروں میں گزری۔ لیکن آپ کی زندگی کے پہلے دو عشروں کے بارے میں کوئی درست معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ابو علی مسکویہ کی سوانح عمری

ابو علی مسکویہ اپنی زندگی کے تیسرے عشرے میں بغداد کے شہر بویہان گئے اور 12 سال تک معز الدولہ دیلمی کے وزیر ابو محمد مہلبی کے خاص دوست اور معتمد خاص رہے۔ سات سال تک وہ رکن الدولہ دیلمی کے وزیر ابن عمید کی خدمت میں رہے اور رے میں ان کی لائبریری کے کیوریٹر اور  نگران تھے۔ ابن عمید کے قتل سے اس کی بہت بڑی لائبریری کو لوٹ مار اور تباہی سے بچا لیا، لیکن صاحب ابن عباد کا تعاون قائم نہ رہ سکا اور  اسکی نگرانی اختتام پذیر ہوگئی۔ بعد ازاں شیراز چلے گئے اور عضدالدولہ دیلمی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہی دنوں میں وہ اسکے کتب خانے کے نگران بن گئے۔ صمصام الدولہ بن عضد الدولہ دیلمی نے جب عہدہ سنبھالا تو اس کے ماتحت خدمات انجام دیں۔ ابن مسکویہ ابو علی سینا کے ہم عصر تھے اور ابوحیان توحیدی اور بدیع الزمان ہمدانی سے خط و کتابت کرتے تھے۔ آپ اپنے زمانے کی فکری اور ثقافتی زندگی میں ایک ممتاز شخصیت تھے اور تاریخ، الہیات، فلسفہ اور میڈیکل کے مختلف شعبوں میں ماہر تھے۔ انہیں کیمیا اور نایاب علوم میں گہری دلچسپی رہی ہے۔ مذہب کے بارے میں ان کا تصور زیادہ تر فلسفیانہ اور کسی حد تک عقلی تھا، مگر فارابی اور اخوان الصفا کی طرح وہ فلسفیانہ نظریات کے قائل تھے۔ جب کہ انکا پسندیدہ علم، میڈیکل (طب) کا علم تھا۔

    علمی آثار

ابو علی نے عملی اور فکری حکمت کے حوالے سے اور خاص طور پر تہذیب اخلاق کے حوالے سے بڑی کوشش کی اور اس میدان میں اس حد تک آگے بڑھے کہ بعض انہیں "تیسرے استاد" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مسکویہ کو سائنسی تاریخ کے مصنفین کا علمبردار کہا جاتا ہے۔ مسکویہ کی کتاب "جاویدان خرد" یا " آداب العرب و الفرس" مختلف اقوام کے دستور ہیں، جو انہوں نے جاویدان خرد میں جمع کیے ہیں۔ ابو علی اپنی فلسفیانہ سوچ میں ارسطو اور افلاطون سے متاثر تھے۔ اپنی دو کتابوں "تہذیب الاخلاق" اور "الفوز الاصغر" میں انہوں نے ہپوکریٹس (Hippocrates)، گیلن (Galen)، پائتھاگورس (Pythagoras) اور پروکلس (Proclus) جیسے فلسفیوں کی آراء پر تنقید کی ہے۔ ابن مسکویہ نے مختلف علوم بالخصوص تاریخ اسلام، فلسفہ اور اخلاقیات میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور گراں قدر علمی آثار چھوڑے ہیں۔ اخلاقیات اور فلسفہ میں، انہوں نے بہت سی کتابیں، بشمول تہذیب الاخلاق اور تطہیر العراق، ترتیب السعدہ، الفوز الاصغر اور الحکمۃ الخالدہ، لکھی ہیں۔"تہذیب الاخلاق" ابو علی مسکویہ کی اخلاقیات کی سب سے اہم اور جامع کتاب ہے، جو یونانیوں خصوصاً ارسطو کے علمی آثار سے متاثر تھی اور اس نے اپنے بعد کے خواجہ ناصر الدین طوسی اور امام محمد غزالی جیسے مفکرین کو بھی متاثر کیا۔ اس کتاب میں، مسکویہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ذہن ان تین فیکٹرز قوه عاقلہ (عقلی قوت)،  قوه سبعیہ (درندگی کی قوت) اور قوه بہیمہ (حیوانی قوت) پر مشتمل ہے، جس میں بالترتیب حکمت، شجاعت اور عفت کی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ مسکویہ عدل کو چوتھی خوبی سمجھتا ہے جس کا کام پچھلی تین خوبیوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ماسکویہ ارسطو کا پیروکار تھا اور ارسطو کی طرح اس کا خیال ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز خیر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مورخین نے افلاطون پر ابو علی مسکویہ کے اثرات کو رد نہیں کیا۔ کتاب " تجارب الامم" ابو علی کے معاشی نظریات پر مشتمل ہے۔

وفات

ابن مسکویہ کی تاریخ وفات 1029 عیسوی (420 یا 421 ہجری قمری) اصفہان میں بتائی گئی ہے۔ صاحب "روضات" کے مطابق ابن مسکویہ کی تدفین اصفہان کے خواجو محلے میں ہوئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ ان کی قبر خواجو محلے میں امام زادہ باقر کے سامنے باغ میں تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منہدم ہوگئی ہے۔

مشہور شخصیات

ابوعلی مسکویه؛ عقل گرا و خردمند

جایگاه ابن مسکویه در تاریخ تفکر اسلامی از جهت پرداختن به اخلاق و به تبع آن سیاست، قابل توجه است. او به سنتی در تفکر اسلامی تعلق دارد که وزن ویژه‌ای را برای عقل و خرد قائل است.

ابوعلی احمد بن محمد بن یعقوب مسکویه رازی در سال 320 هجری قمری (932 میلادی) در ری متولد شد. زندگی او در شهرهای ری، بغداد، شیراز و اصفهان سپری شد. 20 سال اول زندگی را در ری سپری کرد. از دو دهه ابتدایی زندگی او اطلاعات دقیقی در دسترس نیست. ابوعلی مسکویه در آستانه ورود به دهه سوم زندگی به بغداد رفت و 12 سال مصاحب و ندیم خاص ابومحمد مهلبی، وزیر معزالدوله دیلمی شد. مدت هفت سال نیز در خدمت ابن‌عمید وزیر رکن‌الدوله دیلمی زندگی کرد و خازن کتابخانه او در ری بود. با قتل ابن‌عمید، کتابخانه عظیم او از غارت و ویرانی مصون ماند، اما از خدمت و همکاری با صاحب بن عباد سر باز زد. در ادامه به شیراز رفت و به خدمت عضدالدوله دیلمی درآمد. در این ایام، خازن کتابخانه و بیت‌المال وی شد. با روی کار آمدن صمصام‌الدوله بن عضدالدوله دیلمی، نزد او به خدمت پرداخت. ابن‌مسکویه از معاصران ابوعلی سینا بود و با ابوحیان توحیدی و بدیع‌الزمان همدانی نیز مکاتبه داشت. او چهره برجسته‌ای در حیات عقلی و فرهنگی زمان خود بوده و در رشته‌های گوناگون تاریخ، علم کلام، فلسفه و پژشکی تبحر داشته است. همچنین به کیمیاگری و علوم غریبه سخت علاقه‌مند بوده است. برداشت وی از دین بیشتر فلسفی بود. او تا حدی عقلانی و مانند فارابی و اخوان‌الصفا از معتقدان به تشیع فلسفی به شمار می‌آمد. از دیگر علوم مورد علاقه وی، پزشکی بود. 

آثار ابن‌مسکویه‌

ابوعلی در زمینه‌های حکمت نظری و عملی به‌ویژه در فن تهذیب اخلاق تلاش بسیار کرد و تا آنجا پیش رفت که برخی به او لقب «معلم سوم» داده‌اند. مسکویه را پیشرو نویسندگان علمی تاریخ نامیده‌اند. کتاب «جاویدان خرد» یا «آداب العرب و الفرس» از مسکویه، اندرزنامه‌های ملل گوناگون است. ابوعلی در تفکر فلسفی از ارسطو و افلاطون تاثیر پذیرفته است. در دو کتاب «تهذیب الاخلاق» و «الفوز الاصغر» خود آرای فیلسوفانی مانند بقراط، جالینوس، فیثاغورس و پروکلوس را نقد کرده است. ابن‌مسکویه در علوم گوناگون به‌ویژه تاریخ اسلام و فلسفه و اخلاق آثار ارزشمندی به یادگار گذاشت. در اخلاق و فلسفه، کتاب‌هایی چون تهذیب‌الاخلاق و تطهیر الاعراق، ترتیب السعده، الفوز الاصغر و الحکمة الخالده را نوشت. «تهذیب‌الاخلاق» مهم‌ترین و جامع‌ترین کتاب اخلاقی ابوعلی مسکویه است که از آثار یونانیان به‌ویژه ارسطو تأثیر پذیرفته و بر اندیشمندان پس از خود (مانند خواجه نصیرالدین طوسی و امام محمد غزالی) تأثیر گذاشته است. مسکویه در این کتاب تاکید دارد که روان از سه قوه شامل قوه عاقله، قوه سبعیه و قوه بهیمه تشکیل شده است که به ترتیب فضایل حکمت، شجاعت و عفت را در خود جای داده است. مسکویه فضیلت چهارم را عدالت می‌داند که وظیفه آن ایجاد تعادل میان سه فضیلت پیشین است. می‌گویند مسکویه پیرو ارسطو بوده است و به مانند ارسطو اعتقاد دارد همه چیز در این عالم هستی به سمت خیر در حرکت هستند. مورخان تاثیرپذیری ابوعلی مسکویه از افلاطون را هم رد نکرده‌اند. کتاب «تجارب الامم» شامل دیدگاه‌های اقتصادی ابوعلی است.

درگذشت ابن‌ مسکویه

مورخان درگذشت ابن مسکویه را سال 420 یا 421 هجری قمری (1029 میلادی) در اصفهان اعلام کرده‌اند. آنان محل دفن ابن‌مسکویه را در محله خواجوی اصفهان عنوان کرده و معتقدند قبر او که در باغ مقابل امام‌زاده باقر در محله خواجو بود‌ و به مرور زمان از بین رفته است.