مشہور شخصیات

ابن بواب

ابن بواب نے قرآن کریم کے 64 نسخے لکھے۔ ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن کریم کا مکمل نسخہ چیسٹربی لائبریری میں بھی رکھا ہوا ہے۔

علاءالدین ابو الحسن علی بن ہلال جسے "ابن بواب" کہا جاتا ہے، چوتھی اور پانچویں صدی ہجری (10ویں اور 11ویں صدی عیسوی) کے مشہور خطاط اور سونے کا کام کرنے والےتھے۔ آپ کی پیدائش کے مقام اور وقت کے بارے میں کوئی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ صرف ایک چیز جو یقینی ہے وہ ان کی بغداد میں رہائش ہے، جہاں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزرا۔ آپ کے والد ہلال آل بوایہ کے دربان تھے اور اسی وجہ سے آپ کو علاءالدین ابوالحسن علی بن ہلال، ابن بواب کہا جاتا ہے۔

خطِ منسوب

خطاطی(کیلی گرافی) شروع کرنے سے پہلے ابن بواب بڑی بڑی شخصیات کے گھروں کی پینٹنگ میں مصروف تھے، اس کے بعد آپ نے سونے کا کام (Gold work/ illumination/ ɡɪlt) اور کتابوں پر سونے کے  کام (Gold-Calligraphy) کو شروع کیا۔ آپ نے ادبی علوم بھی پڑھے اور آپ کے استاد ابن جنی تھے۔ ابوالحسین محمد بن سمعون واعظ اور ابو عبید اللہ مرزبانی کا بھی آپ کے ادب کے اساتذہ میں شمار ہوتا ہے۔ آپ آہستہ آہستہ خطاطی کی طرف متوجہ ہوئے اور کتابت شروع کی۔ آپ نے کتابت (خطاطی/کیلی گرافی) ابن مقلہ کے شاگرد محمد بن اسد اور محمد بن سمسانی سے سیکھی۔ یہ دونوں اساتذہ عظیم خطاط اور خط نسخ کے تخلیق کار اور عباسی دور حکومت سے وابستہ افراد  تھے۔ ابن بواب نے اپنی فنی بصیرت سے منسوب خطاطی کو ایک خاص فنی خوبصورتی بخشی۔ ریحان اور محقق کی ابتدائی خطاطی کو بھی ابن بواب سے منسوب کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے" نرگس"، "لولوئی"، "مرصع" اور "واشی" جیسی خطاطی کو بھی بہتر اور خوبصورت بنانے میں بے حد محنت اور کوشش کی۔ ابن بواب خطاطی میں اس مقام پر پہنچے کہ وہ اپنے زمانے کی منفرد خطاط شخصیت بن گئے اور جیسا کہ تاریخی منابع میں آتا ہے کہ ان سے پہلے کے خطاطوں میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملتا جو ان جیسی کتابت کرسکے۔ عضد الدولہ دلمی کے بیٹے بہاء الدولہ نے آل بوایہ کے دور حکومت میں انہیں شیراز میں اپنی لائبریری کا لائبریرین منتخب کیا۔ ابن بواب نے خطاطی کی تعلیم کے لیے ایک تربیتی سنٹر بھی قائم کیا جو 1298ء (698ھ) تک قائم رہا۔

خطِ ابن بواب کی نایابی

ابن بواب کی تحریر اپنی اہمیت کی وجہ سے ساتویں صدی ہجری  قمری کے اوائل میں نایاب ہوگئی تھی۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب ابن بواب نے اپنے کام کے آغاز میں اس دور کے ایک بزرگ کو 70 سطری خط لکھ کر دو دینار طلب کیے تھے۔ اس تاریخی  واقعہ کو کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ابن بواب کے ہاتھ کی لکھائی اور ان کی خطاطی(کتابت) کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے ان کا خط نایاب ہوگیا اور قدر و قیمت پہلے سے کہیں بڑ گئی۔ تاریخی ذرائع کے مطابق ابن بواب کا دو دینار کا ایک ہی خط پہلی بار 17 دینار میں اور دوسری بار 25 دینار میں فروخت ہوا۔ ابن بواب نے قرآن کریم کے 64 نسخے لکھے۔ ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن کریم کا مکمل نسخہ آئرلینڈ کی چیسٹربی لائبریری میں محفوظ ہے۔ یہ نسخہ 1001ء (391ھ)میں لکھا گیا۔ اگرچہ اس نسخے کی ہینڈ رائٹنگ کو "خط نسخ" کے طور پر نقل کیا گیا ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کتابت ریحان کے خط نسخ کے ساتھ ملتی جلتی، یا دوسرے لفظوں میں خط نسخ ریحانی ہے۔ اسکے علاوہ کچھ دیگر ہنری آثار بھی ابن بواب کی طرف منسوب ہیں۔ جن میں جاہلی شاعر دیوان سلامہ بن جندل کے دو نسخے بھی شامل ہیں، جن میں سے پہلا استنبول کے ٹوپکاپی سرائے میں رکھا گیا ہے اور دوسرا ترکیہ کے ترک اور اسلام کے فن پاروں پر مبنی عجائب گھر میں رکھا گیا ہے۔ ابن بواب کا خطاطی کا طریقہ اس وقت تک استعمال ہوتا رہا، جب تک مستعصمی کا یاقوتی اسلوب مقبول نہیں ہوا، چنانچہ مستعصمی کی یاقوتی خطاطی کے استعمال نے ابن بواب کی خطاطی کی جگہ لے لی۔ خطاطی میں ابن بواب کے شاگردوں میں سے محمد بن عبدالملک قابل ذکر ہیں۔ ابن بواب کو شاعری کا بھی ہنر حاصل تھا اور ان سے کچھ اشعار بھی منسوب کیے گئے ہیں، جن میں خطاطی میں "رائی کا اوڈ" بھی شامل ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے 28 بیت ہیں۔ آخر کار ابن بواب کا انتقال بغداد میں ہوا اور وہ مرقد احمد ابن حنبل کے پاس دفن ہوئے۔

مشہور شخصیات

ابن بواب و کتابت قرآن با خط نسخ ریحانی

ابن‌بواب،‌ 64 نسخه‌ از قرآن‌ مجید را کتابت‌ کرده‌ است‌. نسخه کامل‌ قرآن‌ موجود به‌ خط او در کتابخانه چستربیتی‌ نگهداری‌ می‌شود.

علاءالدین ابوالحسن علی بن هلال معروف به «ابن‌بَواب» خوشنویس و تذهیب‌کار نامدار قرون چهارم و پنجم هجری قمری (قرن 10 و 11 میلادی) است. از محل تولد و زمان به دنیا آمدن ابن بواب اطلاعات دقیقی در دست نیست. تنها موضوع مشخص، زندگی او در بغداد است که بخش اعظمی از دوران حیات او را شامل می‌شود. پدرش هلال، دربان آل بویه بود و به همین دلیل علاءالدین ابوالحسن علی بن هلال را ابن بواب نامده‌اند. 

خطِ منسوب به ابن‌بواب

ابن بواب پیش از آن که به خوشنویسی بپردازد، به نقاشی و نگارگری خانه‌های بزرگان مشغول بود، پس از آن به تذهیب روی آورد. او کم‌کم به خوشنویسی روی‎ آورد و به نوشتن و کتابت مشغول شد. او خوشنویسی را از محمد بن اسد و محمد بن سمسانی، شاگردان ابن مُقله آموخت. این دو استاد از خوشنویسان بزرگ و پدیدآورندگان خط نسخ و دولتمردان دوره عباسی بودند. ابن بواب با بینشی هنرمندانه به خط منسوب زیبایی هنری بخشید. ابداع خط ریحان و محقق را هم به ابن بواب نسبت داده‌اند و گفته می‌شود او در اصلاح و زیباسازی خط‌هایی مثل نرگس، لؤلؤی، مرصّع و وشی تلاش بسیاری کرده است. ابن بواب در خوشنویسی به چنان مقامی رسید که یگانه روزگار خود شد و آن طور که در منابع تاریخی آمده است از خوشنویسان پیش از او کسی را نمی‌توان یافت که مانند او بنویسد. بهاءالدوله فرزند عضدالدوله دیلمی در روزگار آل بویه او را به عنوان کتابدار کتابخانه خود در شیراز انتخاب کرد. ابن بواب، آموزشگاهی هم برای تعلیم خط تأسیس کرد که تا سال 698 هجری قمری (1298 میلادی) پابرجا بود.

کمیاب شدن خط ابن‌بواب

خط ابن ‌بواب‌ در اوایل‌ قرن هفتم هجری قمری (قرن 13 میلادی)‌ به دلیل اهمیتش، کمیاب‌ شد. این در حالی است که در ابتدای شروع به کار، ابن بواب برای درخواست دو دینار، 70 سطر به یکی از بزرگان آن دوران نامه نوشته بود. از این تاریخ زمانی نگذشته بود که با پی بردن به اهمیت خط ابن بواب، آثار خوشنویسی‌ او کمیاب‌ و گران‌بها شد. در منابع تاریخی آمده است همین نامه درخواست دو دینار ابن بواب ابتدا با 17 دینار و بار دوم با 25 دینار به فروش رفت. ابن‌ بواب‌ 64 نسخه‌ از قرآن‌ مجید را کتابت‌ کرده‌ است‌. نسخه کامل‌ قرآن‌ موجود به‌ خط او در کتابخانه چستربیتی ایرلند‌ نگهداری‌ می‌شود. این نسخه در سال 391 هجری قمری (1001 میلادی) نوشته شده است. با این که نوع‌ خط این نسخه را نسخ‌ نوشته‌اند‌، اما کارشناسان اعتقاد دارند این کتابت از نسخ‌ آمیخته‌ به‌ ریحان‌ یا به‌ عبارت‌ دیگر نسخ‌ ریحانی‌ است‌. آثار دیگری‌ هم به‌ ابن‌بواب‌ منسوب‌ است‌. از آن‌ جمله‌ دو نسخه‌ از دیوان‌ سلامه بن‌ جَندل‌ شاعر دوران اعراب جاهلی‌ که‌ اولی‌ در توپکاپی‌ سرایی‌ استانبول‌ و دومی‌ در موزه آثار ترک و اسلام‌ نگهداری‌ می‌شود. 
شیوه خوشنویسی‌ ابن‌ بواب‌ تا زمانی‌ که‌ شیوه یاقوت‌ مستعصمی‌ رواج پیدا نکرده بود، استفاده می‌شد ولی بعد از آن استفاده از خط یاقوت مستعصمی جای آن را گرفت. از شاگردان‌ ابن‌بواب‌ در خوشنویسی‌ می‎توان به محمد بن‌ عبدالملک‌ اشاره کرد. ابن بواب طبع شعر هم داشت و اشعاری را به او نسبت داده‌اند که از آن جمله قصیده‌ای درباره ادوات خوشنویسی است که 28 بیت دارد. سرانجام ابن‌بواب در بغداد درگذشت و در جوار مزار احمد بن حنبل به خاک سپرده شد.