مشہور شخصیات

میرداماد

میرداماد کی اختراعات میں سے ایک ان کی توجہ وقت کے تصور کی طرف ہے اور اسکے وقوع کے مسئلے اور کائنات کی رفتار سے متعلق ہے، جسے (دہری کا واقعہ) یا نظریہ کہا جاتا ہے۔

میر محمد باقر بن محمد حسینی استرآبادی میر داماد کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ آپ صفوی دور کے فلسفی ہیں۔ آپ ماورائی حکمت کے بانی، ملا صدرا کے استاد  ہونے کے ساتھ، تیسرے استاد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ میرداماد کا شمار ان مسلم فلسفیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ملا صدرا کی شاندار حکمت کی تشکیل کو متاثر کیا۔ میرداماد کو فلسفہ، الہیات، علم کلام، ریاضی، فقہ اور اصول فقہ سمیت بہت سے علوم میں مہارت حاصل تھی۔ آپ اصل میں استرآباد کے رہنے والا تھے، مگر اصفہان میں رہائش پذیر تھے۔ آپ شیخ بہائی کے بہت قریبی دوست اور شاہ عباس اول اور شاہ صفی کے قریبی دوست تھے۔ اور تقلیدی علوم میں سید نورالدین علی بن ابی الحسن موسوی، شیخ حسین آملی اور شیخ عبدالعلی بن محقق ثانی کے شاگرد تھے۔ آپ علم فقہ میں اجتہاد کے درجے پر فائض تھے۔ فکری علوم میں آپ نے کچھ عرصہ امیر فخر الدین سماکی، جو امیر غیاث الدین منصور شیرازی کے شاگرد تھے اور فلسفہ پڑھاتے تھے، سے کسب فیض کیا۔  میرداد نے اپنی زندگی کے دوران قطب الدین اشکوری عارف، ملا صدرا، ملامحسن فیض کاشانی اور ملا عبدالرزاق لاہیجی جیسے طلباء کی پرورش کی۔

میرداد کے علمی آثار

میرداماد بہت نفیس لکھاری تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے علمی آثار کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ میردماد صوفیانہ رویے اور روحانی مراقبہ کے حوالے سے بھی مشہور رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ 40 سال تک آرام کے لیے بستر پر نہیں گئے۔ آپ ہر رات آدھا قرآن کریم پڑھا کرتے تھے اور کلام الٰہی سے یہ تعلق یمنی حکمت میں ان کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ نے یمنی اور یونانی فلسفے کو شعوری طور پر تسلیم کیا۔ میردماد نے یمنی فلسفے کو حکمت سے منسوب کیا جو حکمت  روشنی اور الہام سے پیدا ہوتی ہے۔ اور دوسرے کو (یونانی فلسفے کو) اپنی علم ودانش سے وابستہ سمجھتے تھے۔

میرداماد کا فلسفہ

جاپانی اسلامی اور قرآنی اسکالر ایزتوسو (Izutsu) کا خیال ہے کہ میرداماد کا فلسفہ عقلی دلیل اور صوفیانہ وجدان دونوں پر انحصار کرتا ہے۔ فکری طور پر وہ مشاء مکتب فکر کے پیروکار ہیں جبکہ تصوف میں وہ سہروردی مکتب فکر کے زیر اثر ہیں۔ لہٰذا آپ کے فلسفانہ نظریات  میں مشاء کی حکمت اور اشراقی حکمت کے درمیان ایک ربط قائم ہے۔ میرداماد فطرت کی اصلیت میں سہروردی کی پیروی کرتے ہوئے وجود کی اصلیت اور فطرت کی اصلیت پر یقین رکھتے  ہیں۔ میرداماد کی اختراعات میں سے ایک ان کی توجہ وقت کے تصور کی جانب ہے اور اس کے وقوع کے مسئلے اور کائنات کی رفتار سے متعلق ہے، جسے "دہری کا وقعہ" یا نظریہ کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ اصفہانی فلسفی مکتبہ فکر کی عمومی خصوصیات رکھتا ہے۔ میرداماد نے وجود کے تین دائروں کو یوں سمجھا ہے: ازلی جس سے مراد ایسی حقیقت ہے جو تبدیل نہیں ہوتی، یا زیادہ واضح طور پر متغیر اور مستقل کے درمیان تعلق کو کہتے ہیں۔ اس دنیا کے ساتھ، جو مکمل طور پر ابدی ہے، دہر(زمانہ)  ہے، جو غیر متغیر کو متغیر سے جوڑتا ہے۔ اس عدم دنیا میں وقت ہی تھا  جو متغیر اشیاء کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ دنیا وقت سے پہلے اس لحاظ سے پیدا نہیں ہوئی تھی کہ پہلے زمانہ تھا اور پھر اس میں وہ واقعہ جس کو تخلیق کہا جاتا ہے،وقوع پذیر ہوا ہے۔

میرداماد کی وفات

میردماد 1040 یا 1041 ہجری قمری یعنی شیخ بہائی کے تقریباً 10 سال بعد جب وہ عتبات عالیہ کی زیارت کیلئے گئے تو  اسوقت اجل الٰہی کو لبیک کہا۔ شاہ صفی اور شہر کے بزرگوں نے ان کے جسد خاکی کو ان کی وصیت کے مطابق نجف میں امام علی علیہ السلام کے مزار کے قریب  دفن کیا۔

مشہور شخصیات

میرداماد و ابتکارات فلسفی او

از نوآوری‌های میرداماد توجه وی به مفهوم زمان و ارتباط آن با مساله حدوث و قدم عالم است که به عنوان نظریه «حدوث دهری» شناخته می‌شود.

میر محمدباقر بن محمد حسینی استرآبادی را با نام میرداماد می‌شناسند. این فیلسوف در دوره صفویه (قرن شانزدهم میلادی) زندگی می‌کرد. او استاد ملاصدرا مؤسس حکمت متعالیه است و به معلم ثالث شهرت دارد. میرداماد در بسیاری از علوم از جمله فلسفه، کلام، طبیعیات، ریاضیات، فقه و اصول تخصص داشت. او اصالتاً اهل استرآباد (گرگان امروزی) بود، ولی در اصفهان زندگی می‌کرد. وی از دوستان بسیار نزدیک شیخ بهایی و از مقربان درگاه شاه عباس اول و شاه صفی بود. در علوم نقلی از شاگردان سید نورالدین علی بن ابی‌الحسن موسوی، شیخ حسین عاملی و شیخ عبدالعالی بن محقق ثانی بود. او به مرتبه اجتهاد و فقاهت رسید. در علوم عقلی، مدتی محضر امیر فخرالدین سماکی، شاگرد امیر غیاث‌الدین منصور شیرازی را درک کرد و به مباحثات فلسفی اشتغال ورزید. میرداماد در طول حیات خود شاگردانی چون قطب‌الدین اشکوری عارف، ملاصدرا، ملامحسن فیض کاشانی و ملا عبدالرزاق لاهیجی را پرورش داد.

آثار میرداماد

میرداماد بسیار پیچیده‌نویس بود. به همین دلیل فهم آثار او سخت است. میرداماد به لحاظ سلوک عرفانی و مراقبه نفس نیز زبانزد بوده است. معروف است که 40 سال برای استراحت به بستر نرفت. هر شب نیمی از قرآن را تلاوت می‌کرد و همین انس با کلام الهی، در حکمت یمانی برای او گره‌گشا بود. او «آگاهانه فلسفه یمانی و یونانی را از هم بازشناخت؛ میرداماد، فلسفه یمانی را به خردی نسبت می‌داد که از اشراق و الهام نشأت می‌گرفت و دومی را به دانش خردگرایانه منسوب می‌دانست.»

فلسفه میرداماد

ایزوتسو (اسلام‌شناس و قرآن‌پژوه ژاپنی) معتقد است فلسفه میرداماد هم بر برهان عقلی تکیه دارد و هم بر شهود عرفانی. او در روش عقلی، پیرو مکتب مشاء و در عرفان تحت ‌تأثیر سهروردی است. بنابراین در فلسفه وی، بین حکمت مشاء و حکمت اشراق پیوند برقرار می‌شود. میرداماد در مسئله اصالت وجود و اصالت ماهیت، به‌پیروی از سهروردی، به اصالت ماهیت اعتقاد دارد. از نوآوری‌های میرداماد توجه وی به مفهوم زمان و ارتباط آن با مساله حدوث و قدم عالم است که به نظریه «حدوث دهری» معروف است. این نظریه دارای خصیصه‌های کلی مکتب فلسفی اصفهان است؛ میرداماد سه قلمرو وجود را به این قرار قائل می‌شود: سرمد یا ازلیت که به حقیقتی اشاره دارد که تغییر نمی‌کند یا به‌طور دقیق به رابطه‌ بین متغیر و ثابت برمی‌گردد. دون این دنیا که به تنهایی کاملا جاودان است، دهر قرار دارد که تغییرناپذیر را به متغیر پیوند می‌دهد. دون دهر، زمان قرار دارد که رابطه بین اشیای متغیر را نشان می‌دهد. این جهان قبل از زمان خلق نشده است به‌آن معنا که ابتدا زمانی وجود داشته و سپس اتفاقی که خلقت نام دارد، در آن اتفاق افتاده باشد.

درگذشت میرداماد

میرداماد در سال 1040 یا 1041 هـ. ق (1631 میلادی) یعنی حدود 10 ‌سال پس از شیخ‌بهایی، هنگامی که به سفر عتبات رفته بود، روی در نقاب خاک کرد. او را بنا به وصیت خودش در نجف در کنار مرقد امام‌ علی(ع) به خاک سپردند.