مشہور شخصیات

رودکی

اگر ہر چیز کی ابتداء ہے تو رودکی ان لوگوں میں سے ایک ہے، جن کے لیے فارسی ادب اپنی تاریخ کے ایک اہم حصے کا آغاز ہے

سامانی دور احیاء، عقلیت پسندی اور عقلی سوچ کے احیاء کا دور ہے۔ اس دور میں ثقافت سے محبت کرنے والوں اور اہل علم کی کاوشوں کی بدولت سائنس، علم، ثقافت اور فلسفے کی کونپلیں پروان چڑھیں اور ان کے علم کی خوشبو نہ صرف ان دنوں پوری دنیا میں پھیلی ، بلکہ اس کی خوشبو نے آج تک علمی زندگی کو تروتازہ بھی رکھا  ہواہے۔ درحقیقت سامانیوں نے ایران کے ماضی کی زبان و ادب کو زندہ کرنے کی ایک نہ رکنے والی کوشش کی۔ انہوں نے ایک طرف شاعروں، ادیبوں اور مترجموں کو فارسی زبان میں علمی آثار تخلیق کرنے کی ترغیب دے کر فارسی زبان کو تقویت اور وسعت دی اور دوسری طرف فردوسی طوسی جیسے مشہور ایرانی شاعر کی تاریخ نگاری کی صورت میں ایرانی ثقافت اور تہذیب کے دلدادہ لوگوں کو قدیم شاہنامے بنانے اور ترتیب دینے پر مجبور کیا۔ دریں اثنا، رودکی جیسے ممتاز شعراء، جو کسی بھی طرح سے اپنے زمانے کے علمی و عقلی معاشرے سے متاثر تھے، نے شاعری کو اپنے فلسفیانہ اور فیصلہ کن خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ رودکی سامانی دربار کا شاعر تھا اور امیر نصر بن احمد سامانی اور دوسرے شہزادوں اور درباریوں کی مدح سرائی کرتا تھا۔ وہ یونانی فلسفہ میں سے "ایپیکیورین فلسفہ" پر یقین رکھتے تھے اور ان خیالات نے خیام، عطار اور حافظ جیسے لوگوں کی فکری بنیاد رکھی ہو گی۔

 

فارسی کے نت نئے ماڈل ایجاد کرنا

رودکی کو فارسی بولنے والا پہلا عظیم شاعر اور "فارسی شاعری کا باپ" سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے پہلے کسی کے پاس "شاعری کا دیوان" نہیں تھا۔ رودکی نے عربی شاعری کی پیروی کرتے ہوئے فارسی شاعری کو الگ کیا اور اس کے لیے فارسی کے نئے وزن اور شکلیں تخلیق کیں اور مختلف اشعار کے ترجمے اور حکیمانہ اور نثری اشعار کے ساتھ ساتھ غزلیں اور نعتیہ اشعار لکھ کر فارسی شاعری کی ترقی کی راہ ہموار کی۔ انہیں "دوہے"   (دو بیتی اشعار)  کے اختراع کرنے والے اور تخلیق کار کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ایرانی شعراءان کی عزت و تکریم کے اتنے معتقد ہیں کہ انہوں نے کئی بار ان کے اشعار کو اپنے علمی آثار میں استعمال کیا ہے۔ بلاشبہ رودکی کی سب سے مشہور نظم اور ترکیب جو فارسی ادب میں پڑی ہے، وہی غزل ہے، جو انہوں نے امیر نصر سامانی کی بخارا واپسی میں اس عنوان کے ساتھ لکھی تھی: مولیاں کی ہوا کی خوشبو آتی ہے، یہ کسی مہربان دوست کو یاد کرنے جیسا احساس ہے۔ شاعری اور موسیقی میں ان کی مہارت کا ابو نصر سامانی پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بغیر جوتوں کے نظم "بوئی جوئے مولیاں" سن کر ہرات سے بخارا کے لیے روانہ ہوگئے۔

رودکی  کا زمانہ شعراء میں مقدم ہونے کے باوجود انکا شمار ایران کے عظیم شعراء میں ہوتاہے ۔ پہلا شخص جس نے رودکی کی نظموں کی تعداد کے بارے میں بتایا وہ رشیدی سمرقندی ہیں۔ رشیدی سمرقندی کہتے ہیں: میں نے ان کے اشعار کو تیرہ مرتبہ شمار کیا، اور یہ ایک لاکھ اشعار تھے، اس لیے یہ کہنا ضروری ہے کہ رودکی بہت فصیح شاعر تھے۔ اکثر تذکرہ نویسوں بشمول جامی بہارستان میں ، امین احمد رازی ہفت اقلیم میں ، نجاتی نے بساطین الفضلہ میں ، ان سب نے رشیدی کے بیان کے مطابق کم و بیش ایک ہی مقدار کا ذکر کیا ہے۔ ان کے دور کے بہت سے خود یاداشت نگاروں اور شاعروں نے رودکی کو پیدائشی طور پر نابینا سمجھا ہے، اور بعض نے اسے "سیاہ آنکھوں والا شاعر" کہا ہے اور ان لوگوں میں سے ناصر خسرو کا ذکر کیا جا سکتا ہے، جنہوں نے ان کے اندھے پن کا ذکر کیا ہے۔

 

رودکی کے علمی آثار

رودکی کی نظموں کا معیار فارسی ادب کی ترقی کا آغاز تھا۔ مطالعات ایران کے امریکی ماہر رچرڈ فرائی کا خیال ہے کہ رودکی نے پہلوی سے فارسی رسم الخط کو تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان کی نظموں کا تذکرہ فارسی تذکروں اور کتابوں میں کئی بار آیا ہے، جو ان کے دیوان کے مجموعہ کی بنیاد تھیں۔ ان کے اشعار کا ایرانی شاعروں نے کئی بار خیر مقدم کیا اور کئی بار حوالہ کے طور پر بھی استعمال کیا ۔ فارسی شعراء میں انہیں بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور بہت ہی کم لوگوں نے ان پر تنقید کی ہے۔ رودکی کے علمی آثار کے طور آپ کا شعری "دیوان" کلیلہ اور دمنہ کی صورت میں منظوم مجموعہ قابل ذکر ہے۔ رودکی کی کل نظموں کی تعداد جو ایک لاکھ اشعار پر مشتمل تھی، آج ایک ہزار سے زیادہ اشعار دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ رودکی کو کلاسیکی فارسی شاعری کے باپ کے طور پر ایک خاص مقام حاصل ہے۔ فارسی بولنے والے اس شاعر کے لیے ہمیشہ مختلف تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔

 

رودکی کی وفات

ابو عبداللہ جعفر بن محمد بن حکیم بن عبدالرحمٰن بن آدم، جسے رودکی کے نام سے جانا جاتا ہے اور ماہر شاعر کے طور پر مشہور ہیں، 858 عیسوی، (4 دیماہ 237 ہجری شمسی) کو سمرقند کے ضلع رودک کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور940 عیسوی (319 شمسی) تاجکستان کے صوبہ سوغد شہر پنجقند، میں وفات پائی۔ 25 دسمبر، جو کہ ایران کے قومی کلینڈر کے مطابق 4 دی شمسی ہے "یوم رودکی " کے نام سے موسوم ہے۔

مشہور شخصیات

رودکی؛ سخن سرای بزرگ ایران

اگر هر چیز را مبدئی باشد، رودکی یکی از کسانی است که ادبیات فارسی، شروع بخش مهمی از تاریخ خود را به وی مدیون است.

دوره سامانی (819 تا 1004 میلادی)، دوران رستاخیز، عصر خردگرایی و زمان احیای تفکر عقلانی است. در این دوره‌ به‌ همت اهالی فرهنگ‌دوست و وزیران دانشمند، نهال علم، دانش‌، فرهنگ و فـلسفه بـالید و به بار نشست و بوی خوش دانش و معرفت آنان نه‌ تنها در تمامی جهان آن روزگاران پیچید، که شمیم آن تا به‌ امروز جان دانـش را تازگی و شادابی بخشیده است. سـامانیان در احیای زبان و ادب گذشته ایران، تلاشی‌ وقفه‌ناپذیر داشتند. از یک‌ طرف به تقویت و گسترش زبان پارسی از طریق تشویق شاعران، نویسندگان و مترجمان در به وجـود آوردن آثـاری‌ بـه‌ زبان‌ فارسی پرداختند و از جهتی دیگر دل‌بستگان به فـرهنگ و تـمدن‌ ایرانی‌ را به پدید آوردن و به نظم کشیدن شاهنامه‌ها و تاریخ‌نامه‌های باستان واداشتند.‌ سرحلقه این جمع، فردوسی طوسی، شاعر بلندآوازه‌ ایـرانی‌ اسـت. در ایـن میان شاعرانی برجسته، چون رودکی که‌ به‌ هـر صورت متأثر از جامعه علمی عقلانی زمان خود بودند، شعر را وسیله‌ای برای بیان اندیشه‌ها و تفکرات‌ فلسفی‌ و حکمی‌ خویش قـرار دادند. رودکی شاعر دربار سامانیان و مدح‌کننده امیر نصر بن احمد سامانی و دیگر امرا و درباریان بود. او به فلسفه اپیکوری یکی از فلاسفه یونانی معتقد بود.

ابداع قالب‌های جدید فارسی

رودکی را «نخستین شاعر بزرگ پارسی‌گوی و پدر شعر پارسی» می‌دانند، زیرا پیش از وی کسی «دیوان شعر» نداشته است. رودکی شعر فارسی را هویتی مستقل بخشید و اوزان و قالب‌های جدید برای آن به وجود آورد. وی با ترجمه منظومه‌های مختلف و سرایش اشعار حکیمانه و تعلیمی و نیز تغزلات و مدیحه راه را برای پیشرفت شعر فارسی گشود. او را مبتکر و آفریننده دوبیتی نیز دانسته‌اند. شاعران ایرانی بسیار او را ارج نهاده‌اند به‌طوری که بارها از اشعار او در تضمین‌های خود استفاده کرده‌اند. بی‌شک معروف‌ترین شعر و سروده رودکی که در ادب فارسی سخت نیکو افتاده، همان قصیده‌ای است که در بازگرداندن امیر نصر سامانی به بخارا سروده با مطلع: بوی جوی مولیان آید همی/ یاد یار مهربان آید همی. چیرگی او در شعر و موسیقی به اندازه‌ای در ابونصر سامانی تاثیرگذار بوده که پس از شنیدن شعر «بوی جوی مولیان» بدون کفش، هرات را به مقصد بخارا ترک کرده است.
رودکی با وجود تقدم نسبت به شاعران بزرگ ایران‌زمین از پرکارترین‌ها نیز به شمار می‌رود. نخستین فردی که درباره تعداد اشعار رودکی سخن گفته، رشیدی‌ سمرقندی، شاعر قرن ششم هجری قمری (قرن دوازدهم میلادی) است. رشیدی سمرقندی می‌گوید: «شعر او را سیزده بار شمردم‌، صد هزار بیت بود، از این رو باید گفت رودکی شاعری بسیارگو بوده است.» بیشتر تذکره‌نویسان با توجه به همین گفته رشیدی، تقریبا همین‌ مقدار را با انـدکی کـم و زیـاد ذکر کرده‌اند. تذکره‌نویسان رودکی را کور مادرزاد می‌دانند و بعضی او را «شاعر تیره‌چشم» گفته‌اند، از افردای ‌که‌ بـه‌ کـوری وی اشاره کرده‌اند، می‌توان‌ از فردوسی و ناصر خسرو نام برد.

آثار رودکی

کیفیت اشعار رودکی آغازگر راه پیشرفت ادبیات فارسی بود. ریچارد فرای، ایران‌شناس آمریکایی عقیده دارد که رودکی در تغییر خط از پهلوی به خط فارسی نقش داشته ‌است. در تذکره‌ها و کتاب‌های پارسی اشعار وی بارها ذکر شده‌ که همین‌ها اساس جمع‌آوری دیوان وی بودند. وی در میان شاعران فارسی بسیار مورد ارج و احترام بوده و کمتر فردی زبان به نکوهش وی گشوده‌است. از آثار رودکی می‌توان به «دیوان اشعار» و «کلیله و دمنه منظوم» اشاره کرد. از مجموع اشعار رودکی که بالغ بر صد هزار بیت بوده است امروزه بیش از هزار و اندی در دست نیست. از آنجا که رودکی به عنوان پدر شعر کلاسیک فارسی از جایگاه ویژه‌ای برخوردار است، همواره آیین‌های پاسداشت مختلفی برای این شاعر پارسی‌زبان برگزار می‌شود. 

درگذشت رودکی

ابوعبدالله جعفر بن ‌محمد بن حکیم ‌بن ‌عبدالرحمن ‌بن ‌آدم متخلص به رودکی و مشهور به استاد شاعران در چهارم دی‌ماه ۲۳۷ هجری شمسی (858 میلادی) در یکی از روستاهای ناحیه رودک سمرقند به دنیا آمد و در سال ۳۱۹ شمسی (940 میلادی) در پنجکنت، شهر و ناحیه‌ای در ولایت سغد تاجیکستان درگذشت.
روز 25 دسامبر مصادف با چهار دی ماه، در تقویم ملی ایران، «روز بزرگداشت رودکی» نام‌گذاری شده است.