کوئٹہ میں خانۂ فرہنگ ایران میں شبِ یلدا کی تقریب

شبِ یلدا کی تقریب

شبِ یلدا

شبِ یلدا سال بھر کی سب سے طویل اور سرد رات ہوتی ہے، جو صدیوں سے انسانی شعور میں محض ایک فلکیاتی واقعہ نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی علامت کے طور پر محفوظ چلی آ رہی ہے۔ یہ وہ رات ہے جس میں اندھیرا اپنی تمام تر وسعت کے باوجود روشنی کی واپسی کا اعلان خود اپنے وجود سے کرتا ہے۔ وسط ایشیائی ممالک اور بالخصوص ایران میں شبِ یلدا ہزاروں برس سے بطور تہوار منائی جاتی ہے، اور اس کا تعلق نہ کسی مخصوص مذہب سے ہے اور نہ کسی نسل یا عقیدے سے۔ یہ ایک ہمہ گیر موسمی اور انسانی تہوار ہے، جیسا کہ برصغیر میں واساکھی، بسنت اور لوہڑی، جو زمین، موسم اور انسان کے باہمی رشتے کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

تاریخی طور پر شبِ یلدا اس لمحے کی نمائندہ ہے جب سردی اپنے عروج پر اور رات اپنی انتہا کو پہنچ کر دن کی بڑھتی ہوئی روشنی کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔ یہی تصور قدیم تہذیبوں میں امید، تسلسل اور حیاتِ نو کی علامت بن کر ابھرتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رات محض سائنسی یا موسمی حقیقت تک محدود نہ رہی بلکہ ایک گہرے ثقافتی اور ادبی استعارے میں ڈھل گئی، جس میں انتظار بھی ہے اور نویدِ سحر بھی۔

اسی تہذیبی تسلسل کی ایک خوبصورت مثال 21 دسمبر کی شب خانۂ فرہنگِ ایران، بلوچستان میں دیکھنے میں آئی، جہاں شبِ یلدا کا جشن نہایت وقار اور ثقافتی شعور کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر روایتی کیک کاٹا گیا اور ایرانی و مقامی روایات کو اس حسن سے یکجا کیا گیا کہ محفل ایک بامعنی تہذیبی مکالمے میں تبدیل ہو گئی۔ پروگرام میں حافظ خوانی کی روایت کو خصوصی اہمیت دی گئی، جس نے محفل کو کلاسیکی فارسی ادب کی خوشبو سے معطر کر دیا۔

اس روایتی اور ثقافتی تقریب کے مہمانِ خصوصی ممتاز دانشور ڈاکٹر عرفان احمد بیگ تھے۔ دیگر معزز مہمانوں میں کونسل جنرل ایران جناب محمد کریمی تود شکی، جناب آغا گل، جناب جاوید سرور، ڈائریکٹر خانۂ فرہنگِ ایران جناب ڈاکٹر ابوالحسن میری، جناب شفقت عاصمی کمبوہ، جناب سجاد حیدر، ممتاز سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی، ڈائریکٹر کلچر ڈیپارٹمنٹ جناب داؤد ترین، جناب ڈاکٹر عبدالقُیوم بیدار، جناب سردار حبیب، جناب اکبر ساسولی، جناب نوید اور محترمہ تسنیم صنم سمیت علمی، ادبی، ثقافتی اور سماجی حلقوں کی متعدد نمایاں شخصیات اور ایرانی نژاد پاکستانی شریک ہوئے۔ شرکا کی بڑی تعداد اس امر کی غمازی کرتی تھی کہ شبِ یلدا آج بھی ایک زندہ اور متحرک تہذیبی روایت ہے۔

تقریب کا ایک نہایت اہم اور یادگار لمحہ اس وقت آیا جب ممتاز شاعر، ادیب اور محقق جناب شفقت عاصمی کمبوہ نے اپنی نظم “شبِ یلدا” پیش کی۔ نظم کو سامعین نے غیر معمولی توجہ اور پسندیدگی سے سنا اور اس کے علامتی، فکری اور جمالیاتی پہلوؤں کو بھرپور داد دی گئی، جس سے نظم کی معنوی وسعت اور بین الثقافتی ہم آہنگی مزید نمایاں ہو گئی۔

-نظم: شبِ یلدا

یہ رات
وقت کے ماتھے پر رکھا ہوا وہ سیاہ تل ہے
جس کے پیچھے روشنی کی تقدیر دھڑکتی ہے۔
یہ شبِ یلدا ہے،
لمبی، گہری، خاموش،
جیسے صدیوں کی تھکن نے ایک لمحے میں پناہ لے لی ہو۔

آسمان سانس روکے کھڑا ہے
اور زمین اپنے دل میں سورج کی واپسی کی دھڑکن سن رہی ہے۔

یہ وہ رات ہے
جب اندھیرا اپنی پوری قامت کے ساتھ
انسان کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے
اور انسان
اپنی مختصر سی شمع لیے
امید کی طرف دیکھتا ہے۔

شبِ یلدا
فقط موسموں کی کروٹ نہیں
یہ روح کا امتحان ہے
یہ وہ گھڑی ہے
جب صبر سب سے طویل
اور یقین سب سے نازک ہو جاتا ہے۔

گھروں میں بزرگوں کی آوازیں
وقت کی شکستہ دیواروں پر چراغ جلاتی ہیں،
انار کے دانے
جیسے دل کی دھڑکنیں
سرخی اوڑھے مسکرا اٹھتے ہیں،
اور لفظ
کہانیوں کی صورت
نسلوں کے درمیان پل باندھ دیتے ہیں۔

یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے
کہ سورج کبھی مرتا نہیں
بس کچھ دیر کے لیے
آنکھیں بند کر لیتا ہے،
اور اندھیرا
ہمیشہ مکمل نہیں ہوتا
بلکہ اپنی حد پوری کرتا ہے۔

شبِ یلدا
غم کی انتہا بھی ہے
اور خوشی کی پہلی لکیر بھی،
یہ فراق کی آخری سانس
اور وصال کی ابتدائی دستک ہے۔

اس رات
ہر دل کے اندر
ایک خاموش صبح
جنم لیتی ہے
بغیر شور کے
بغیر اعلان کے
بس یقین کے ساتھ۔

اور جب رات
اپنی تمام طوالت کے بعد
تھک کر سمٹنے لگتی ہے
تو وقت کے افق پر
روشنی آہستہ سے کہتی ہے
میں آ گئی ہوں
میں ہمیشہ آتی ہوں۔

محفل کے اختتام پر موسیقی کی دل آویز نشست منعقد ہوئی، جس کے بعد مہمانوں کی تواضع روایتی ایرانی پکوانوں سے کی گئی۔ یوں یہ شام محض ایک تقریب نہیں رہی بلکہ ایک مکمل تہذیبی تجربہ بن گئی، جس میں تاریخ، ادب، موسیقی اور ذائقہ ایک دوسرے میں گھل مل گئے۔

الغرض، خانۂ فرہنگِ ایران، بلوچستان میں منعقدہ شبِ یلدا کا یہ جشن اس حقیقت کا روشن ثبوت تھا کہ جب موسمی تہوار تہذیبی شعور اور ادبی ذوق کے ساتھ منائے جائیں تو وہ محض رسم نہیں رہتے بلکہ زندہ روایت بن جاتے ہیں۔ شبِ یلدا آج بھی انسان کو یہی پیغام دیتی ہے کہ اندھیری ترین رات بھی بالآخر روشنی کی تمہید بن جاتی ہے۔

کویته پاکستان

کویته پاکستان

تصاویر

اپنا تبصرہ لکھیں.

فونٹ سائز کی تبدیلی:

:

:

: