فن تعمیر

ایرانی گھراور فن تعمیر

ایرانی گھر روزمرہ کی زندگی کی ایک داستان ہیں۔ ایسی داستان کہ یہاں کے لوگ کیسے سوتے، کھاتے، پیتے،باتیں کرتے، پیارو محبت سے رہتے اور مرتے ہیں۔ گھر کا فن تعمیر رہنے کے لیےہے اور شاید اسی لیے یہ فن تعمیر کسی بھی دوسری عمارت کی نسبت انسانی جسم اور روح سے بہت زیادہ قریب ہے۔

   اگر کسی پرانے ایرانی شہر کی صرف ایک عمارت باقی رہ جاتی ہے تو بہتر ہے کہ یہ ایک گھر ہو، کیونکہ گھر وہ ہے ،جہاں لوگ اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ وہ باتیں کرتے ، کھاتے ، سوتے ، بچے ہوتے ، بوڑھے ہوتے، اور بالآخر مر جاتے ہیں۔ گھر زندگی کی کہانی ہے، صرف طاقت ، ایمان یا تجارت کی کہانی نہیں ہے۔

   روایتی ایرانی مکانات، جو قاجار اور صفوی ادوار سے بچ گئے ہیں، ان میں ایک چیز مشترک ہےاور وہ باہر سے کچھ نہیں دکھاتےبلکہ دیکھنے میں تو صرف  ایک اونچی، سادہ سی دیوار، اکثر کھڑکیوں کے بغیر، لکڑی کے چھوٹے سے  دروازہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر آپ گلی سے گزرتے ہیں، تو آپ نہیں جانتے کہ اس دیوار کے پیچھے کیا ہو رہا ہے۔ یہ رازداری حادثاتی نہیں ہے۔ ایرانی ثقافت میں، رازداری سب سے پہلے آتی ہے۔ گھر اجنبیوں کی جگہ نہیں ہے۔ جو داخل ہو اسمیں داخل ہونے کی اجازت لینی چاہیے۔ دروازہ کھٹکانے کیلئے دستک کیلئے سیسٹم  مختلف ہے: عورتوں کے لیےکم آواز والا دستک سیسٹم  اور مردوں کے لیے بھاری  آواز والا سیسٹم۔ گھر کا مالک آواز سے بتا سکتا سمجھ سکتا تھا  کہ مہمان مرد ہے یا عورت اوراس طرح  ضرورت پڑنے پر گھر کی عورت اپنے آپ کو ڈھانپ سکتی ہے۔

   لیکن جیسے ہی آپ دروازے میں داخل ہوتے ہیں، اچانک ایک جگہ کھل جاتی ہے۔ ایک مرکزی صحن، درمیان میں ایک تالاب اور پھولوں اور درختوں سے بھرے باغات۔ یہ صحن گھر کا دل ہے۔ اس کے چاروں طرف تمام کمرے ترتیب دیے گئے ہیں۔ جب سورج تالاب سے ٹکراتا ہے تو سلائیڈ کھڑکیوں سے روشنی سارے کمروں میں پھیل جاتی ہے۔ جب ہوا چلتی ہے تو یہ درختوں سے گزر کر کمرے کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ یہ "مرکزی صحن" کی ترتیب بظاہر سادہ لگتی ہے، لیکن ایرانی ماہرین تعمیرات نے صدیوں سے اس پر کام کیا ہے۔ نہ صرف خوبصورتی کے لیے، بلکہ آب و ہوا کے لیےبھی۔ گرمیوں میں، صحن سایہ فراہم کرتا ہے اور تالاب کا پانی نمی پیدا کرتا ہے۔ سردیوں میں، گھر کی اونچی دیواریں ہوا کو روکتی ہیں اور جمے ہوئے تالاب پر سردی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

   پرانے گھروں کے عموماً دو حصے ہوتے ہیں: بیرونی اور اندرونی حصہ۔ باہر مرد مہمانوں کے استقبال کی جگہ ہوتی ہے۔ اندرونی حصہ خاندان کا نجی حصہ ہوتا ہے، جس میں خواتین اور بچوں کے کمرے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ علیحدگی امیر گھروں میں بہت واضح ہوتی ہے، گلی سے دو الگ دروازے ہوتے ہیں۔ درمیانے درجے کے گھروں میں ان کے صحن ہوتے ہیں، لیکن کمروں کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہوتا ہے کہ مہمان گیسٹ روم میں جائے اور اندرونی حصے میں نہ جھانکنے پائے۔ ونڈنگ کوریڈورز، مختصر دالان، اور داخلی راستوں پر موٹے پردے ہوتے ہیں۔ یہ سب رازداری کو برقرار رکھنے کے لیےہوتا ہے۔ آج یہ بات ہمیں عجیب لگتی ہے، لیکن اس طرح کی سیٹنگ کا مطلب امن وامان  اور باہمی احترام  قائم رکھنا ہوتا ہے۔

  عموماً گھر کے مرکزی کمروں کے تین حصے تہوتے ہیں: ہال، طاق اور پوسٹو۔ ہال رہنے کی اہم جگہ ہوتی ہے، جس میں جالی دار کھڑکیاں صحن کی طرف ہوتی ہیں۔ ہال کے فرش پر قالین بچھا ہوا ہوتا ہے اور سردیوں میں ایک کیری رکھی جاتی ہے۔ (اس کے نیچے چارکول کی گرل والی میز) ہوتی ہے۔ دیواروں کے طاق برتنوں، کتابوں اور بستروں کے لیے جگہ ہوتی ہے۔ پوسٹو کمرے کے پچھلے حصے میں ایک چھوٹا سا اسٹوریج روم ہوتا ہے۔ بڑے گھروں میں ہمارے تین دروازوں والے اور پانچ دروازوں والے کمرے ہوتے ہیں۔ پانچ دروازوں کا مطلب صحن کی طرف پانچ کھلتے ہیں، جو کمرے کی اہمیت اور سائز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شاہ نشین گھر کے سب سے اونچے مقام پر ایک کمرہ ہوتا ہے، جس سے صحن اور کبھی گلی کا مکمل نظارہ ہوتا ہے۔ شہنشاہ زمیندار یا کسی خاص مہمان کی جگہ ہوتی ہے۔

   لیکن گھر صرف ایک کمرہ اور صحن نہیں ہوتا ،بلکہ گھر میں ایک تہہ خانہ (سرداب) بھی شامل ہوتا ہے۔ جو شدید گرمی کے موسم میں  گھر کی سب سے ٹھنڈی جگہ ہوتی ہے۔ موٹی دیواروں اور تہہ خانے کی گہرائی (بعض اوقات تین میٹر تک) درجہ حرارت کو کم رکھتی ہے۔ سرداب کی چھت اس طرح بنائی گئی ہوتی ہے کہ اس میں نمی داخل نہ ہو۔ کچھ گھروں میں ہمارے پاس ونڈ کیچر بھی ہوتا ہے۔ ونڈ کیچر چھت پر ایک ٹاور نما ہوتا ہے،جو ہوا کو روک  کر سرداب یا ہال کی طرف لے جاتا ہے۔ بغیر کسی انجن کے، بغیر کسی قیمت کے ہوا کا رخ اور صحیح اونچائی سے وہاں پہنچتی  ہے۔ ایرانی ماہر تعمیرات جانتے ہوتے ہیں کہ شہر کی ہوا کس طرف سے  چل رہی  ہوتی ہے اور انہوں نے اس کا سامنا کرنے والا ونڈ کیچر بنایا ہوتا ہے۔ اس کی مثال آج بھی یزد اور کاشان کے گھروں پر موجود ہے۔

گھروں کا سٹریکچر  اڈوبی اور اینٹوں سے ڈھکا ہواہوتا ہے۔  مضبوطی کے لیے، دیواروں کو چپسم کے پلاسٹرسے ڈھانپ دیا جاتاہے۔ لیکن جو چیز گھر کو اینٹوں کے سٹریکچر سے ممتاز کرتی ہے وہ اسکی سجاوٹ ہے۔ دروازوں کے اوپر سٹوکو، مرکزی ہالوں میں آئینے کا کام، داخلی دروازے میں کاشی (موزیک) ٹائلیں، اور پھولوں اور پرندوں یا شاہنامے کی کہانیوں کے تھیم کے ساتھ دیوار کی پینٹنگز۔ اشرافیہ کے گھر اس قدر سجے ہوتے ہیں کہ آج  کےعجائب گھر بن چکے ہوتے ہیں۔ کاشان میں بروجردیوں کا گھر، طباطبائیوں کا گھر، یزد میں لاریوں کا گھر اس  کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اوسط گھروں میں بھی وہ قبلہ کے کمرے میں پلستر کی چھوٹی قربان گاہ یا صحن میں ایک سادہ تالاب بناتے ہیں۔ خوبصورتیاس طرح کی ترتیب میں ہے ،عیش و آرام میں نہیں ہے۔

    گھر صرف جسمانی آرام  و سکون کا مرکز نہیں ،بلکہ روحانی امن سکون کا مرکز بھی ہوتا ہے۔لہذا گھر جانے کے آداب، پارٹیاں دینے کے آداب، باپ کے گھر سے شوہر کے گھر جانے کے آداب۔ گھر  میں بچے  کی پیدا ئش اور تربیت کرنے کی جگہ، مجالس عزا اور عزاداری کی جگہ، شادیوں کی تقریب کی جگہ۔ کچھ بڑے گھروں میں تو صحن اتنا وسیع ہوتا ہے  کہ انہوں نے خیمے لگائے ہوئے ہوتے ہیں  اور سینکڑوں لوگوں کو مدعو کیا ہوتا ہے۔ چھوٹے گھروں میں، ایک کرسی(سپیشل سردیوں کے فیملی ہیٹر) کے ارد گرد چند کپ چائے اور کینڈی کی ایک سجاوٹ کے ساتھ پارٹی منعقد کی جاتی ہے۔ یہ سب  لوازمات ایرانی گھر کے فن تعمیرسے  جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ان سب کو  اکٹھا کرنے کے لیے ایک بڑا کمرہ، بچوں کے ادھر ادھر بھاگنے کے لیے ایک صحن اور ایک پورچ ایکسٹرا ہوتے ہیں۔

 

قاجاری دور کے اواخر میں ایرانیوں کے یورپ کا سفر اور مغربی طرز تعمیر کی ایران آمد کے ساتھ، ایرانی مکانات بہت بدل گئے ہیں۔ مرکزی صحن کو ختم کر دیا گیا۔ گھر گلی کی طرف مڑ گیا۔ کھڑکیاں بڑی ہو گئیں اور گلی کا سامنا کرنا پڑا۔ ونڈ بریک اور سیلرز کی جگہ ایئر کنڈیشنر اور ہیٹر نے لے لی ہے۔ ان تبدیلیوں میں اگلی دہائیوں میں تیزی آئی اور اپارٹمنٹس آگئے۔ اب کوئی صحن، تالاب یا درخت نہیں ہوتا ہے۔ زندگی کنکریٹ کے ٹاور کے چند چھوٹے کمروں تک محدود ہوگئی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے، بچوں کی آوازیں نیچے تک نہیں پہنچتی ہیں اور پڑوسی دیواروں کے پیچھے سے ایک دوسرے کے ٹیلی ویژن کی آواز سن سکتے ہیں، لیکن وہ کبھی ایک دوسرے کے گھروں میں قدم نہیں رکھتے ۔ گھر "سماجی جگہ" سے "رہائشی یونٹ" میں تبدیل ہو گیا ہے۔

   لیکن یزد، اصفہان، کاشان، شیراز اور تہران (عود لاجان جیسے علاقے) جیسے تاریخی شہروں میں آپ اب بھی پرانے مکانات دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ بحال ہو چکے ہیں، کچھ ٹوٹ رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، پرانے گھروں کی ایکو لاجز یا روایتی ہوٹلوں کے طور پر تزئین و آرائش کی ایک لہر آئی ہے۔ غیر ملکی اور ملکی سیاح صحن، تالاب اور لکڑی کی چھت والے گھر میں رات گزارنا پسند کرتے ہیں۔ شاید یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس فن تعمیر کی قدر دوبارہ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ شاید یہ صرف گزرے زمانے کو دیکھنے  کا شوق ہے۔