فلم ضد اور دراندازی کی کہانی

فلم ضد اور دراندازی کی کہانی

فلم ضد اور دراندازی کی کہانی

فلم "ضد"اور دراندازی کی کہانی 2016 ء (1395 شمسی) تک جاتی ہے۔ اس سال ایک تقریر میں ایران کے شہید رہبر معظم ؒنے فرمایا: "ہفت تیر" کے واقعے پر "میڈیا اور فنکارانہ توجہ کیوں نہیں دی گئی ہے؟ جب کہ یہ واقعہ سب سے اہم واقعات میں سے ایک ہے۔ اس میں ایرانی افواج کے ستر یا اس سے زیادہ سربراہان مارے گئے  اور اس آپریشن کا آغاز مجاہدین انقلاب کے خلاف تھا۔ اس تنظیم نے ابھی تک سرکاری طور پر اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ شاید اس گروپ کے اس جرم میں ملوث ہونے کی ذمہ داری قبول نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ  دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل نہ  ہوجائے، کیونکہ ایسی کارروائی بین الاقوامی طور پر قابل مذمت ہے۔ 7 جولائی 1981ء (1360 شمسی) کو اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر میں انقلابی قوتوں کا ایک اجلاس منعقد ہونا تھا۔ مجاہدین  خلق نامی تنظیم نے آئینی ماہرین اور اسلامی کونسل کے پہلے دور کے انتخابات میں عوام کی جانب سے ووٹ نہ دینے اور اقتدار سے ہٹائے جانے کی وجہ سے پرتشدد اور مسلح جنگ کا رخ کیا۔ وہ اپنی بااثر قوت کو اسلامی جمہوریہ ایران پارٹی میں لے آئے۔جسمیں  حکومت کی اہم اور اعلیٰ شخصیات میں اسلامی جمہوریہ ایران پارٹی کے ارکان شامل تھے۔ مجاہدین خلق  نےشہید  بہشتی (ایران کی عدلیہ کے سابق سربراہ) اور ان کے 72 ساتھیوں کو، جن میں زیادہ تر  ارکان پارلیمنٹ، وزراء اور نائب وزراء تھے، انہیں اسلامی جمہوریہ پارٹی کے دفتر میں بم نصب کر کے شہید کر دیا۔

بنانے کا طریقہ

فلم "ضد"اور دراندازی کے پروڈیوسر محمدرضا شفیع 2016ء (1395) میں ایران کے رہبر معظم کی تقریروں کو اس فلم کو بنانے کی وجہ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: اس فلم کی تحقیق 1995ء میں شروع ہوئی۔ اس سے پہلے شہید بہشتیؒ کے بارے میں ایک سیریز بنانے کے لیے تحقیق کی جا رہی تھی اور یہ تحقیق فلم"ضد" اور دراندازی کی تیاری کے لیے مکمل کی گئی تھی۔ فلم کی تحقیق میں دو سال لگے۔  2019 ء (1398) میں انہوں نے پروڈکشن کے لیے چھلانگ لگائی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور سب کچھ ایک سال کے لیے ملتوی کر دیا گیا 2019ء تک اسکرپٹ کو اس سال کے اختتام  تک ملتوی کر دیا گیا۔ اسکرپٹ کئی بار دوبارہ لکھا گیا اور فلم بنانے کا عمل شروع ہوا2020 ءمیں اس فلم کا  اسکرپٹ  دوبارہ لکھا گیا اور فلم بنانے کا آغاز ہوا۔ یہ فلم سعید کے اثر و رسوخ کی کہانی بیان کرتی ہے، جومنافقوں کے گروہ سے  اسلامی جمہوریہ  پارٹی کی سیکورٹی میں گھس کر سیاسی قتل و غارت گری کی بنیاد ڈالنے میں مصروف تھا۔ سعید اپنی سیاسی تنظیم (مجاہدین خلق) سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے اپنی محبت کی قربانی دیتا ہے۔ اس فلم کا باضابطہ خلاصہ یہ ہےکہ : کچھ لوگ اپنی ضد کی  وجہ سے خلاف ہو سکتے ہیں اور ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ خدمت کر رہے ہیں، مگر انکی یہ "ضد" کسی شخص یا قوم کو لے  ڈوبتی ہے۔

ربیعی کا کارنامہ

فلم ضد"اور دراندازی،ایک سیاسی ڈرامہ ہے جو ایران میں ء1980 کی دہائی کے واقعات سے متعلق ہے۔ اس فلم کے پلے کو حسین تراب نژاد نے لکھا اور اس کی کہانی 1980ءکے موسم سرما سے شروع ہوتی ہے اور 1981ء کی شدید گرمیوں تک جاری رہتی ہے۔ فلم "ضد" اور دراندازی،فلم "ذاتی لباس" کے بعد عامر عباس ربیعی کی بنائی گئی دوسری فلم ہے جو 40 ویں ایرانی فلم فیسٹیول 2021ء میں دکھائی گئی۔ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں امیگریشن کے مسئلے کو ربیع کی پہلی دو فلموں میں دکھایا گیا ہے۔ فلم کے عملے کے ساتھ جواد موگوئی کا اسکرپٹ کنسلٹنٹ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ موگوئی ایک دستاویزی فلم بنانے والا ہے اور اس نے 1979ءکے انقلاب کے بعد ایران میں اثر و رسوخ کے بہاؤ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دستاویزی فلمیں بنائی ہیں۔ انہوں نے ڈاکیومینٹریز نائٹ میر ان دی اویکننگ، اسرار آیت، مڈ نائٹ آف 24 اپریل اور دی انفنشڈ کیس بنائی ہیں۔ فلم "ضد" نے ایرانی فلم فیسٹیول میں بہترین اسٹیج ڈیزائن اور بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ جیتا۔ امیر عباس ربیع کا شمار ایرانی نوجوان نسل کے ان ہدایت کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے مختصر فلمیں بنا کر سینما میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور اوج آرٹ آرگنائزیشن کی سرمایہ کاری سے اپنی پہلی فلم بنائی۔ 38ویں فجر فیسٹیول میں پہلی بار دکھائی جانے والی فلم ’ذاتی لباس‘ کو بھی پہلی فلم کے بہترین ہدایت کار کے لیے نامزد کیا گیا تھا تاہم کورونا نے اسے عوام کے لیے ریلیز نہیں ہونے دیا۔ ایرانی سینما گھروں میں ابھی تک فلم "ضد" اور دراندازی ریلیز نہیں ہوئی۔

نام فلم ضد اور دراندازی کی کہانی
ملک ایران
پروڈکشن کا سال1400
پروڈیوسرمحمدرضا شفیعی
ڈائریکٹرامیرعباس ربیعی