فلم ایک شوگر کیوب میں ایک ایرانی خاندان کی اجتماعی کہانی

فلم ایک شوگر کیوب میں ایک ایرانی خاندان کی اجتماعی کہانی

فلم ایک شوگر کیوب میں ایک ایرانی خاندان کی اجتماعی کہانی

ایک شوگر کیوب، ایک ایسی فلم ہے جو  کسی  بھی کو  شخص کیلئے حیرانگی کا باعث  نہیں ہے۔ میرکریمی اس فلم کے  پروڈیوسر ہیں، جو ایرانی عوام کی روزمرہ کی زندگی کو بیان کرتے ہیں۔ وہ اس فلم میں روزمرہ کی چیزیں جو قربت کی وجہ سے بھول جاتی ہیں یا نظر نہیں آتیں بہت آسان اورخوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں۔

شوگر کیوب کی کہانی

شوگر کیوب ایک نوجوان لڑکی کی کہانی ہے جس کا نام ’پسندیدے‘ ہے۔ پورا خاندان اپنی چھوٹی بہن "پسندیدے"کی شادی کی تقریب میں شریک ہے۔"پسندیدے"کی چار بہنیں اپنے خاندانوں کے ہمراہ پرانے باغ میں "پسندیدے" کی شادی کی تقریب  میں شرکت کرنے آئی ہیں۔ دولہا امریکہ میں رہتا ہے اوراس شادی میں نکاح کی تقریب  آن لائن منعقد ہونے والی ہے اور پھر دلہن اپنا سامان باندھ کر امریکہ چلی جائے گی۔ خاندان کے ماموں فلم کے آغاز ہی سے شادی  تقریب کے لیے شوگر کے کیوب توڑنے میں مصروف ہیں اور شواہد بتاتے ہیں کہ ماموں  اس بندھن سے بالکل بھی  خوش نہیں ہیں۔ وہ خاندان میں واحد غیر مطمئن شخص ہیں۔ یہ فلم ایک روایتی ایرانی خاندان کی زندگی کو بیان کرتی ہے۔ اس خاندان کا تعلق ایران کے صوبہ یزد سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خاندان روایتی ہے اور یزدی ایرانی معاشرے کے لیے یہ شادی کی تقریب انتہائی پرکشش ہے، چونکہ یہ روایتی خاندان آن لائن شادی کا بوجھ قبول نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ ماموں خاندان میں سب سے بڑے ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔

ناقدین نے فلم "ایک شوگر کیوب" کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم نسل در نسل تبدیلی کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہے اور روایتی ایرانی معاشرے میں نسل در نسل تبدیلی کو دکھانا چاہتی ہے۔ فلم میں علامات جیسے "لیپ ٹاپ" اور زبان سیکھنا وغیرہ، ناقدین کے دلائل کی مثالیں ہیں۔ ابتدائی خوشی کے باوجود، فلم کا اختتام تلخ ہے، چنانچہ ماموں ایک عجیب طریقے سےشوگر کیوب کھاتے ہیں، جو بالآخر ان کی زندگی کے لیے وبال  کا باعث بنتاہے۔ماموں کی موت نے شادی کو ماتم میں بدل دیا۔ ماموں کی موت اور دلہن کے کالا لباس پہننے  کےساتھ ہی یہ آن لائن  شادی کی تقریب ختم ہو گئی۔ "کہانی میں کرداروں کی بڑی تعداد فلم "ایک شوگر کیوب"اور دیگر میرکریمی  کی فلموں کے درمیان  بڑا فرق ہے۔ یہ فلم 10 اکتوبر 2011ء (1390 شمسی) سے 12 ہفتوں تک ایرانی سینما گھروں میں دکھائی گئی۔ شوگر کیوب فلم نے اسی سال باکس آفس پر چھٹا مقام حاصل کیا۔

آسکرکی کہانی

ایک شوگر کیوب میرکریمی کی دوسری فلم ہےجسے آسکر ایوارڈکے لیے نامزد کیا گیا۔ ایک شوگر کیوب سے پہلے میرکریمی کی فلم ’’بہت دور، بہت نزدیک‘‘ اور پھر ’آج‘ آسکر کے لیے نامزد ہوئی تھیں۔ ایک شوگر کیوب کو 2 اکتوبر 2012 ءکو آسکر کے لیے ایران کے نمائندے کے طور پر منتخب کیا گیا ،مگر آسکر میں پیغمبر اسلام ؐکی توہین کرنے والی فلم کی نمائش کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے اس فلم کو اس فیسٹیول میں بھیجنے سے انکار کردیا۔

فلم ایک شوگر کیوب کو 29ویں فجر فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا اور اسے بشمول بہترین سیٹ اور کاسٹیوم ڈیزائن، میک اپ، ساؤنڈ ریکارڈنگ، اور بہترین معاون اداکارہ چار زمروں میں نامزد کیا گیا۔ رضا میرکریمی صوبہ زنجان میں پیدا ہوئے اور ایرانی سنیما کے ایک مشہور ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹر ہیں۔ میرکریمی نے گرافک ڈیزائن میں گریجویشن کی ہے۔ انہوں نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 1987ء میں کیا۔ انکی فلمیں من جملہ لڑکی، آج، ایک شوگر کیوب،اس سادگی کے ساتھ، بہت دور بہت نزدیک ، یہاں لائٹ آن ہے، چاند کی روشنی تلے، بچہ،فوجی  اور رات کا محافظ جیسی فلمیں میرکریمی کے فلمی آثار میں شامل ہیں۔

نام فلم ایک شوگر کیوب میں ایک ایرانی خاندان کی اجتماعی کہانی
ملک ایران
پروڈکشن کا سال2010
پروڈیوسررضا میرکریمی
ڈائریکٹررضا میرکریمی