دستکاری

احرامی بننا، مذہبی عقائد اور رسومات سے منسلک ایک فن ہے

ماضی میں،فن احرامی سے بنی ہوئی مصنوعات حج کے لباس کے طور پر استعمال ہوتی تھیں اور آج وہ زیادہ تر نماز کے قالین کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔

   زیادہ تر فیبرک کی مصنوعات روایتی ٹیکسٹائل بنائی مشینوں کے ساتھ ہی تیار کی جاتی ہیں، جن کی شکل ایک جیسی ہوتی ہے اور ایک ہی طریقہ ہوتا ہے۔ تاہم، ڈیزائن، اطلاق، اور بنائی کی قسم میں بہت سے اختلافات ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات ایسے ہیں کہ مصنوعات کو ایک دوسرے سے الگ کیا جا سکتا ہے اور مختلف مصنوعات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ "احرامی" ان مصنوعات میں سے ایک ہے، جو اپنی بنائی مشین کی اونی کپڑے کی  بنائی مشین سے مماثلت کے باوجود مختلف طریقوں سے اس سے اختلافات رکھتی ہے، اس لیے "احرامی بُنائی" کو آج روایتی ایرانی دستکاری کے مختلف شعبوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

احرامی کیا ہے؟

   احرامی، جسے یزد میں"حرمی" اور ایلام میں "ارحام"بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا کپڑا ہے، جو دونوں طرف سے روئی سے بنا ہوتا ہے۔ اس کے احرامی نام سے پہچانے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ماضی بعید میں اس کے بنے ہوئے کپڑے حج کے لباس کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ بلاشبہ، چونکہ احرامی بُنائی جانے والی مصنوعات کسی بھی چیز سے زیادہ نمازی قالین کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، اس لیے اس میدان کو "قالین بُنائی" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بہر حال، اس فن کا مذہبی رسومات اور عقائد سے جوڑنا لوگوں میں اس کے لیے خصوصی احترام کا باعث بنا ہے۔

   اگرچہ اس کپڑے کو بُننے کے روایتی طریقوں میں کوئی آفاقی معیار نہیں ہے، تاہم اس کپڑے کی لمبائی عموماً 100 سے 120 سینٹی میٹر اور اس کی چوڑائی تقریباً 70 سے 90 سینٹی میٹر ہوتی ہے، حالانکہ بعض اوقات تین میٹر تک کے کپڑے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ 70 سینٹی میٹر چوڑائی والے کپڑوں میں عام طور پر 22 چیلے استعمال ہوتے ہیں اور 90 سینٹی میٹر چوڑائی والے کپڑوں میں 28 تانے (Warp) (کپڑے کی لمبائی کے رخ پر تنے ہوئے دھاگوں کو "تانا" (فارسی میں چلہ) کہتے ہیں۔جبکہ تانے کے دھاگوں کے آر پار (چوڑائی کے رخ پر) گزرنے والے دھاگے کو "بانا"فارسی میں پود اور انگریزی میں (Weft/Woof) کہا جاتا ہے۔)استعمال ہوتے ہیں۔ ایک احرامی بنُنے والا جو روایتی طریقے سے کپڑے بُنتا ہے وہ یومیہ احرامی کے کپڑے کے چار ٹکڑے بنا سکتا ہے، دوسرے لفظوں میں اس میدان میں فنکاروں کی پیداوار کی شرح تقریباً تین مربع میٹر کہی جا سکتی ہے۔ احرامی عموماً دو رنگوں، سیاہ اور سفید اور دو رنگوں میں بُنا جاتا ہے، لیکن اس میں سبز، سفید اور سرخ رنگ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ حالیہ دہائیوں میں، احرامی بننے میں شفاف، چمکدار اور بعض اوقات شدید رنگوں کے استعمال نے بھی شائقین  کی توجہ کو حاصل کیا ہے۔ احرامی نہ صرف اس کے بُننے والے آلے میں، بلکہ اس کی شکل و صورت میں بھی گلیم (کارپٹ) سے بہت ملتا جلتا ہے۔ اپنی طویل زندگی کے باوجود، اس بنائی میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی اور اس نے اپنے قدیم طریقوں اور ڈیزائنوں کو محفوظ رکھا ہے۔ احرام عام طور پر قالین، بیڈ اسپریڈ، کپڑا لپیٹنے اور بیڈ اسپریڈ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

احرامی بننے کا طریقہ

احرامی بنانے والی کھڈی کو لگانے کے لیے زمین میں ایک گڑھا کھودا جاتا ہے تاکہ کھڈی کا ایک حصہ جس میں اس کے پیڈل بھی شامل ہوں، اس میں رکھا جا سکے۔ ان پیڈلز کے ساتھ، احرامی بنانے والا وارپ اور ویفٹ کی پوزیشن کو تبدیل کرتا ہے اور ایک شٹل سے گزر کر کپڑے کو آگے بڑھانے کے قابل ہوتا ہے جس میں ایک بوبن(Bobin) ہوتا ہے۔ بوبن کے ہر پاس کے ساتھ، آرٹسٹ مشین کے ایک حصے کو مارتا ہے، جسے "بیچہ" کہا جاتا ہے، کپڑے پر اور ایک قطار کو مکمل کرتا ہے۔ یہ وقتا فوقتا اس وقت تک دہرایا جاتا ہے جب تک کہ بنائی جاری رہتی ہے،جو  ایک تال کی آواز پیدا کرتا ہے۔

احرامی بنُنے کے اہم مراکز

   صوبہ خوزستان میں، شوشتر، دیزفل، بہبہان، سوسنجرد، اور مسجد سلیمان کے شہر احرامی کی بنائی کے اہم مراکز تصور کیے جاتے ہیں۔ مختلف شہروں میں سے، شوشتر کو 2022ءمیں احرامی بُننے کے قومی شہر کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ یزد اور اِیلام کے صوبوں کو بھی اس قسم کی بُنائی کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یزد کے احرامی عام طور پر کراس سائز کے ڈیزائن کے ساتھ بنے ہوتے ہیں اور چھوٹے نمونوں سے پہچانے جا سکتے ہیں۔ خوزستان میں تیار کی جانے والی بنیوں میں یزد کے رنگوں سے زیادہ رنگ ہوتے ہیں، جب کہ یزدی  عام طور پر سیاہ اور سفید دھاگوں کا استعمال کرتے ہیں اور جو ڈیزائن وہ استعمال کرتے ہیں وہ سادہ اور ہیرے کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ ڈیزائن دیگر دستکاریوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں، جیسے مٹی کے برتن، راگز، جاجیم اور یہاں تک کہ قالین کی بُنائی میں بھی۔ یزدی فنکاروں کی کھڈیاں  ایران کے دیگر علاقوں میں عام کھڈیوں  سے مختلف ہیں اور انہیں دونوں طرف احرامی بننے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ احرامی کی بنائی کی ایک اور قسم صوبہ لورستان (بروجرد شہر) میں مقبول ہے اور اس کی مصنوعات کو تھیلے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتاہے۔

احرامی کی بنائی کا فن 2008ء (1387 شمسی) میں ایران کے قومی فن پاروں  کی فہرست میں درج کیا گیا۔ اس فن اور دستکاری کو سپورٹ کرنے کے لیے، حالیہ برسوں میں، پروڈکشن ورکشاپس قائم کرنے اور بُنائی کا طریقہ شائقین کو سکھانے کی کوششیں کی گئی ہیں، تاہم، نئی صنعتوں کی توسیع کی وجہ سے احرامی کی بنائی کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔