مشرقی ایران میں، باغران کے پہاڑوں کے درمیان کہیں ایک گاؤں ہے، جہاں کھڈیاں اس کی سرشار خواتین کے دلوں کی دھڑکن پر چلتی ہیں: "خراشاد"؛ ایک ایسا گاؤں جس کی خوبصورتی گاؤں کی کاروباری خواتین کے کھڈیوں پر کپڑا بننے کےفن کے کی وجہ سے نظر آتی ہے! خراشاد ایک فن کا گھر ہے جسے فارسی میں "توبافی" کہا جاتا ہے۔ اس گاؤں میں دھاگے اور تکلے سے کام کرنا کوئی پیشہ نہیں ہے۔ یہ ایک رسم ہے جسے ماؤں نے نسل در نسل بیٹیوں کے حوالے کیا ہے۔ ان کھڈیوں کا ہر دھاگہ بُننے والی خواتین کے ہاتھوں میں پڑے چھالوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے زندگی کی مسکراہٹ کو نقش کر رکھا ہے۔ خراشاد کی خواتین جدید کارخانوں اور مشینوں سے نہیں، بلکہ روایتی کھڈیوں کے ذریعے صبر اور مہارت سے روئی کو سوت اور سوت کو کپڑے میں بدلتی ہیں۔ وہ کپڑا جو ان کی ثقافت کی شناخت، کا ایک حصہ بیان کرتا ہے۔ کھڈی کا کام برسوں سے فراموش کیا جاچکاہے، لیکن آج بھی ایران کےخراشاد گاؤں کی خواتین کی کوششوں کی بدولت اس کے عالمی صارفین موجود ہیں۔

کھڈی کی مصنوعات کو تولیے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
کھڈی کی مصنوعات کیسی ہے؟
کھڈی ایک روایتی ٹیکسٹائل برانچ ہے جو تقریباً 300 سال سے چلی آ رہی ہے۔کھڈی میں استعمال ہونے والے خام مال، کاٹن، ریشم یا فلف ہیں۔ روایتی طریقے میں اس مواد کو پہلے روایتی کتائی کے اوزاروں کا استعمال کرتے ہوئے سوت میں تبدیل کیا جاتا ہے، پھر سوت کو اُبال لیا جاتا ہے۔ اُبلتے وقت، سوت کو گاڑھا کرنے کے لیے تھوڑا سا آٹا ملایا جاتا ہے۔ آخر میں، ایک روایتی کھڈی کا استعمال کرتے ہوئے، ان دھاگوں کو ایک نرم کپڑے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جو خطے کی گرم اور خشک آب و ہوا میں تولیے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے بہترین اختیارات میں سے ایک ہے۔کھڈی کی مصنوعات کو ٹیبل کلاتھ، نائٹ گاؤن اور رومال کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ کھڈی کی مصنوعات کپاس جیسے قدرتی مواد کے استعمال سےتیار کی جاتی ہیں، اس کھڈی کی مصنوعات ہلکی اور (hypoallergenic) یعنی الرجی کا باعث نہ بننے والی ہیں اور پانی کو اچھی طرح جذب کرتی ہیں۔
خراشاد کا جغرافیائی محل وقوع اور اس میں کھڈی بنائی کی تاریخ
کھڈی بُنائی ایک ایسا فن ہے ،جس کا نام ایران کے گاؤں خراشاد سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ گاؤں ایران جنوبی خراسان صوبہ کے شہر بیرجند کا ایک حصہ ہے۔ خراشاد بیرجند سے 24 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور کھڈی بنائی اصل روایتی طریقے سے کی جاتی ہے۔ اس گاؤں کو ایک دیہی علاقہ سمجھا جاتا ہے جو کہ کئی دوسرے دیہاتوں کے ساتھ ایک مشرقی-مغربی وادی کے وسط میں واقع ہے۔ گاؤں کے لوگ فارسی اور برجندی بولی بولتے ہیں اور زیادہ تر زراعت اور مویشی پالنے سے وابستہ ہیں۔ زعفران، باربیری اور جوجوب گاؤں کی اہم زرعی مصنوعات ہیں۔ اس گاؤں کی تاریخ ایران میں اسلام کی آمد سے پہلے (7ویں صدی عیسوی) سے منسوب ہے۔ زرتشتی قبرستان جیسے آثار کا وجود اس دعوے کا بین ثبوت ہے۔
جنوبی خراسان میں ٹیکسٹائل اورکھڈی بُنائی کے لیے موزوں فنون وسیع اور متنوع ہیں، اورکھڈی بُنائی کو ان میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ صنعت 2000ء کی دہائی کے وسط (1380 شمسی) تک فراموش کر دی گئی تھی، لیکن خراشاد کی ایک کاروباری خاتون نے گاؤں کی خواتین کے ساتھ مل کر اسے دوبارہ زندہ کیا اور اسے وسعت دی۔کھڈی بُنائی زیادہ تر خواتین کرتی ہیں، اور فی الحال خراشادی خواتین کے علاوہ، جنوبی خراسان کے تقریباً 20 دیہات میں بھی اس کی پیداوار کی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں، کھڈی بنُائی نے مصنوعات کی فروخت اور برآمد کے لیے ایک کوآپریٹو کمپنی کے قیام کے ساتھ اچھا عروج حاصل کیا ہے۔ اگرچہ پہلے کھڈی بُنائی زیادہ تر گھر پر کی جاتی تھی، لیکن حالیہ برسوں میں اس شعبے میں ورکشاپس کام کر رہی ہیں۔ کئی قومی تمغے حاصل کرنا اور دو تجارتی نام پیدا کرنا حالیہ برسوں میں اس پراڈکٹ کے دیہی پروڈیوسروں کی کامیابیوں میں شامل ہے۔ ان پیشرفتوں نے کھڈی کے فن کو جنوبی خراسان صوبے میں سب سے اہم دستکاری بنا دیا ہے۔
قومی اور عالمی کھڈی بُنائی میڈل
2017ء (1396 شمسی) میں خراشادگاؤں، ورلڈ کھڈی بُنائی والے گاؤں کا خطاب حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس فن کی قومی رجسٹریشن بھی اس تقریب سے ایک سال پہلے یعنی 2016ءمیں کی گئی ہے۔ اس سال بھی خراشاد کو کھڈی بنُائی کے قومی گاؤں کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔