کتاب و کتابخوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے چہار عکس کی رونمائی کی تقریب کا انعقاد
کتاب کے عالمی دن کی مناسبت سے چہار عکس کی رونمائی کی تقریب
ایران میں یومِ کتاب و کتاب خوانی کی مناسبت سے خانۂ فرہنگ ایران، پشاور میں فضل اللہ فانی کی تصنیف کردہ ادبی کتاب "چہار عکس" جوکہ اسلوبِ ہندی کی شاعری کے تقابلی مطالعے کے موضوع پر ایک علمی اثر ہے کی رونمائی کی گئی۔
ایران میں یومِ کتاب و کتاب خوانی کی مناسبت سے خانۂ فرہنگ ایران، پشاور میں فضل اللہ فانی کی تصنیف کردہ ادبی کتاب "چہار عکس" جوکہ اسلوبِ ہندی کی شاعری کے تقابلی مطالعے کے موضوع پر ایک علمی اثر ہے کی رونمائی کی گئی۔
فضل اللہ فانی صوبہ خیبرپختونخوا کے ممتاز نخبگان میں سے ہیں۔ وہ یونیورسٹی سے انگریزی زبان کے فارغ التحصیل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کراچی کے ایک دینی مدرسہ سے علومِ دینی کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ وہ انگریزی، اردو، عربی، پشتو اور فارسی سمیت پانچ زبانوں پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔
فانی کا تعلق صوابی سے ہے اور سوشل میڈیا کے فعال رکن ۔ ماہر خوشنویس اور فارسی گو شاعر ہیں وہ خوشنویسی کے مدرس بھی ہیں اور نستعلیق، ثلث اور نسخ خطوط میں مہارت رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ حافظِ کل قرآن ہیں اور عربی اور برصغیر کی نغماتی ردیفوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنی نئی کتاب "چہار عکس" میں ایک خوبصورت اور فنّی کاوش کے تحت اسلوبِ ہندی کے چار معروف شعراء "صائب تبریزی، غنی کشمیری، بیدل دہلوی اور غالب دہلوی" کے منتخب فارسی اشعار کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے، اور ان کے منتخب اشعار کو اسی وزن میں برقرار رکھتے ہوئے فارسی سے اردو میں منظوم ترجمہ بھی کیا ہے۔
اس تقریب میں ڈاکٹرحسین چاقمی ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پشاور، حسن معظمی نائب قونصل جنرل ایران، نیز اردو اور پشتو ادب و شاعری کی ممتاز شخصیات جن میں ڈاکٹر سبحان، ڈاکٹر شوکت محمود، ڈاکٹر اقبال فنا، ڈاکٹر مفتی اسداللہ خان، آصف ، ادریس خان، پروفیسر جاوید احساس، اور دیگر معزز مہمان نےشرکت کی۔
تقریب کا آغاز قاری محمد یحییٰ صاحب کی پُر کیف تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، نظامت ڈاکٹر سبحان صاحب نے سنبھالی، پہلا مقالہ معروف شاعر، فلسفی اور ماہرِ اقبالیات جناب پروفیسر جاوید احساس صاحب نے پڑھا جس میں انھوں نے چند بالکل نئے اور باریک نکات سے بحث کی، اس کے بعد ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پشاور ڈاکٹرحسین چاقمی صاحب نے مختصر مگر جامع انداز میں کتاب اور فارسی کے مختلف اسالیب پر عالمانہ گفتگو کی، پھر معروف بیدل شناس جناب ڈاکٹر شوکت محمود صاحب نے نہایت پُر مغز گفتگو فرمائی، ان کے بعد معروف سیاست دان، شاعر اور محقق ڈاکٹر اقبال فنا صاحب نیم منظوم مقالہ پڑھ کر سماں باندھ دیا۔ آخر میں فضل اللہ فانی نے مقالہ نویسوں اور مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا ۔
اپنا تبصرہ لکھیں.