• Nov 6 2025 - 17:01
  • 15
  • مطالعہ کی مدت : 3 minute(s)
فارسی زبان سیکھنے والے طلبہ کے لیے خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پشاور میں فلم سلام بمبئی کی نمائش

فارسی زبان سیکھنے والے طلبہ کے لیے پشاور میں فلم سلام بمبئی کی نمائش

ایرانی زبان اور فلموں کے شائقین کے لیے ایرانی فلموں کی نمائش کے تسلسل کے تحت، خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریۂ ایران پشاور نے خانہ فرہنگ کے فارسی زبان سیکھنے والے طلبہ کی سماعتی مہارت کو مضبوط بنانے اور انہیں فارسی زبان سے مزید گہرے طور پر روشناس کرانے کے مقصد سے، ایرانی فلم "سلام بمبئی" کو خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریۂ ایران پشاور کے امام خمینیؒ ہال میں دیکھائی گئی۔

فارسی زبان سیکھنے والے طلبہ کے لیے پشاور میں ایرانی فلم کی نمائش

ایرانی زبان اور فلموں کے شائقین کے لیے ایرانی فلموں کی نمائش کے تسلسل کے تحت، خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریۂ ایران پشاور نے خانہ فرہنگ  کے فارسی زبان سیکھنے والے طلبہ کی سماعتی مہارت کو مضبوط بنانے اور انہیں فارسی زبان سے مزید گہرے طور پر روشناس کرانے کے مقصد سے، ایرانی فلم "سلام بمبئی" کو خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریۂ ایران پشاور کے امام خمینیؒ ہال میں دیکھائی گئی۔

اس سے پہلے بھی ایرانی فلمیں باڈی گارڈ،  یک حبہ قند، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہیں۔ پروگرام کے آغاز میں، کلاس کے استاد نے فلم کی اہمیت اور فارسی زبان سیکھنے میں اس کے کردار کے بارے میں وضاحت کی اور زبان سیکھنے والوں سے درخواست کی کہ فلم دیکھتے وقت الفاظ کی ادائیگی، جملوں کا ساختی ڈھانچہ اور روزمرہ کے اصطلاحات کے استعمال پر توجہ دیں۔

فلم کی نمائش کے بعد، زبان سیکھنے والوں اور استاد کے درمیان فلم کے مواد، اس کے اخلاقی اور ثقافتی پیغام پر گروہی گفتگو ہوئی۔

زبان سیکھنے والوں نے ایرانی سنیما کے کاموں میں اپنی شدید دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فارسی فلمیں دیکھنے سے انہیں زبان کو ایک قدرتی اور زندہ ماحول میں سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ آخر میں یہ تجویز دی گئی کہ فارسی فلموں کی نمائش کو خانۂ فرہنگ کے تعلیمی پروگراموں میں مستقل طور پر شامل کیا جائے تاکہ زبان سیکھنے کے عمل کو مزید متحرک اور دلچسپ بنایا جا سکے۔

فلم "سلام بمبئی"  جس میں محمدرضا گلزار اور بنیامین بهادری نے اداکاری کی ہے، ایران اور بھارت کی مشترکہ پیداوار ہے اور پاکستانی ناظرین کے لیے کئی اہم وجوہات کی بنا پر دلچسپ اور دیکھنے کے قابل ہے:

پاکستان، ایران اور بھارت ثقافتی، تاریخی اور یہاں تک کہ لسانی لحاظ سے مشترکہ جڑیں رکھتے ہیں۔ اس فلم میں مکالمے فارسی، انگریزی اور کبھی کبھار ہندی میں کیے جاتے ہیں، اور فلم کا ماحول ایسے عناصر سے بھرا ہوا ہے جو پاکستانی ناظرین کے لیے مانوس ہیں: ہندی موسیقی، لباس اور سماجی آداب کی مشابہت، اور خاندان اور محبت سے متعلق جذبات جو بالی ووڈ اور پاکستانی سنیما میں بھی مقبول ہیں۔

فلم کی موسیقی، جو بالی وُڈ کی طرز پر ترتیب دی گئی ہے، جنوبی ایشیا کے ناظرین میں بہت مقبول ہے۔ گانے اور موسیقی والے مناظر پاکستانیوں کے لیے ان کی پسندیدہ سنیما کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

فلم دوستی اور تفاہم کا پیغام دیتی ہے جو ایران اور بھارت کے عوام کے درمیان ہے اور پاکستان کے ثقافتی ماحول میں بھی مثبت اثر ڈالتی ہے؛ کیونکہ پاکستانی ایسے کاموں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو خطے کے ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر اگر ان میں امن، محبت اور انسان دوستی کی جھلک ہو۔

الحمدللہ، خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران میں فارسی زبان کتاب "گام اول"کی بنیاد پر مختلف سطحوں میں شائقین کے لیے پڑھائی جاتی ہے، اور ہر سہ ماہی میں نئے افراد کو زبان سیکھنے میں شامل کیا جاتا ہے۔

پشاور میں انگریزی، چینی اور کورین زبانیں زیادہ تر زبان سیکھنے والوں کے ذریعہ آمدنی کمانے اور ہجرت کے مقاصد کے لیے سیکھی جاتی ہیں، لیکن فارسی زبان عوام اور شائقین کی وسیع دلچسپی کی وجہ سے سیکھی جاتی ہے۔ البتہ، پشاور میں بہت سے طلبہ، یونیورسٹی اساتذہ، خاص طور پر پشتو اور اردو زبان کے فارغ التحصیل افراد، فارسی زبان سیکھنے کے خواہشمند ہیں تاکہ وہ اپنی تہذیبی، ثقافتی اور ادبی جڑیں اور میراث، جو کہ دراصل فارسی زبان ہے، کو سمجھ سکیں۔ خیبر پختونخواہ میں بہت سی کتابیں اور قلمی نسخیں  لوگوں کے گھروں، لائبریریوں اور دینی مدارس میں موجود ہیں، اور ابھی بھی بڑی تعداد میں قانونی دستاویزات، جیسے کہ ملکیت کے اسناد اور نکاح نامے فارسی زبان میں موجود ہیں۔ بہت سے عدالتی محکمے فارسی دستاویزات کو ترجمے کے لیے خانۂ فرہنگ ایران بھیجتے ہیں تاکہ انہیں عدالت میں استعمال کیا جا سکے۔

پیشاور پاکستان

پیشاور پاکستان

تصاویر

DSC_0396 DSC_0390 DSC_0401 DSC_0824 DSC_0825 DSC_0828 DSC_0854

اپنا تبصرہ لکھیں.