• Nov 16 2025 - 16:37
  • 30
  • مطالعہ کی مدت : 7 minute(s)
تحریک بیداری امت مصطفی کے زیر اہتمام وحدت امت کانفرنس باعنوان غزہ امت کا امتحان

تحریک بیداری امت مصطفی کے زیر اہتمام وحدت امت کانفرنس باعنوان غزہ امت کا امتحان

وحدتِ امت کانفرنس میں نوجوانوں کے کردار پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مقررین نے کہا کہ امت کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان بیدار رہیں، حق و باطل میں تمیز کریں اور امت کے اجتماعی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، مساجد اور سماجی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کاز کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

تحریک بیداری امت مصطفی کے زیر اہتمام وحدت امت کانفرنس باعنوان

پشاور میں تحریک بیداریِ امتِ مصطفیٰ کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان وحدتِ امت کانفرنس بعنوان "غزہ؛ امت کا امتحان"منعقد ہوئی، کانفرنس میں ڈاکٹرحسین چاقمی، ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پشاور، محمد حسن معظمی،  ڈپٹی قنصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران پشاور، علامہ سید جواد نقوی، مدیر مدرسہ علمیہ جامعۃ العروة الوثقی لاہور اور سرپرست اعلیٰ  تحریک بیداری امت مصطفی پاکستان، سابق سینیٹر سراج الحق، سابق امیرجماعت اسلامی پاکستان، ثاقب شیرازی، رئیس مرکز اسلامی اور امام جمعہ مسجد مرکزی میٹھا خان،  عبدالحق، مدیر مدرسہ علمیہ جامعہ عبدالله بن المسعود،  سید قیصر عباس، امام جمعہ شیرکوٹ اور رئیس امامیہ کونسل کوہاٹ، مولانا محمد شعیب، سابق  معاون بین المذاہب اسلامی کونسل خیبرپختونخوا  اور رئیس اتحادیہ علما و مشائخ پاکستان،  پیر سید مجاہد حسین شاہ، سجاده نشین ایبٹ آباد، مولانا محمدادریس خلیل، رئیس اہل حدیث خیبرپختونخوا، یوسف شاہ، معاون مدیر مدرسہ علمیہ دارالعلوم حقانیہ اکورہ خٹک، غلام اصغر صدیقی، رئیس منهاج القرآن خیبرپختونخوا، علامہ عابد حسین شاکری، مدرس مدرسہ علمیہ شہید سید عارف الحسینی پشاور، مولانا محمد طیب قریشی، چیف خطیب خیبرپختونخوا، مفتی سید العارفین شاہ، مہتمم راحت العلوم پشاور، مفتی عبدالجمیل منصوری، مہتمم جامعہ البنات عائشہ پشاور، علامہ سید اعوان علی شاہ، ممبر امامیہ کونسل کوہاٹ، مولانا اقبال شاہ حیدری، چیئرمین امن کمیٹی پشاور، انجینئر ڈاکٹر مفتی فواد حیدرخان  اور  ملک بھر سے تعلق رکھنے والے جید علمائے کرام، ممتاز مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، اساتذہ، طلبہ، سماجی کارکنوں اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد فلسطین بالخصوص غزہ میں جاری صہیونی جارحیت کے تناظر میں امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کرنا اور اتحادِ امت کی اہمیت کو اُجاگر کرنا تھا۔

کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی۔ ابتدائی کلمات میں مقررین نے غزہ کے مظلوم عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی سرزمین آج امتِ مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے اور یہ حالات امت کے لیے محض آزمائش نہیں بلکہ ایک واضح امتحان ہیں۔

مختلف مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے نہتے فلسطینی عوام، خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کو نشانہ بنایا جانا عالمی ضمیر کے منہ پر طمانچہ ہے، جبکہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اداروں اور عالمی طاقتوں کی خاموشی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہونے والا ظلم صرف فلسطین تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اگر آج امتِ مسلمہ نے متحد ہو کر مؤثر موقف اختیار نہ کیا تو یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے اس امر پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ کسی ایک فرقے، جماعت یا ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ محمدی ﷺ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے ہمیشہ مسلمانوں کو فرقہ واریت، لسانیت اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں، اس لیے وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ امت اپنے داخلی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر وحدت و یکجہتی کا مظاہرہ کرے۔

مقررین نے کہا کہ آج کا دور صرف مذمتی بیانات، سیمینارز، کانفرنسوں اور احتجاجی مظاہروں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔ انہوں نے مسلم عوام پر زور دیا کہ وہ صہیونی مصنوعات اور ان کے حامی اداروں کا مکمل بائیکاٹ کریں، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے غزہ کے مظلوم عوام کی آواز دنیا تک پہنچائیں اور قانونی و عوامی دباؤ کے ذریعے اپنی حکومتوں کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف عملی اور ٹھوس اقدامات پر مجبور کریں۔

کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری محض بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں عالمی فورمز پر مضبوط سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ اگر مسلمان ممالک متحد ہو کر سیاسی، معاشی اور سفارتی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں تو صہیونی جارحیت کو روکا جا سکتا ہے۔

وحدتِ امت کانفرنس میں نوجوانوں کے کردار پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مقررین نے کہا کہ امت کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان بیدار رہیں، حق و باطل میں تمیز کریں اور امت کے اجتماعی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، مساجد اور سماجی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کاز کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

آخر میں کانفرنس کے اختتام پر غزہ کے شہداء کے ایصالِ ثواب اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحریک بیداریِ امتِ مصطفیٰ آئندہ بھی فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت، امت کی فکری و عملی بیداری اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کے لیے خاموشی یا محض زبانی ہمدردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسلامی ممالک کے عوام اور اقوام کی یہ مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ اور تحریم جیسے مؤثر اور پُرامن اقدامات کے ذریعے صہیونی ریاست پر عملی دباؤ ڈالیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی اور جنگی جرائم کے خلاف عالمی و قومی سطح پر قانونی شکایات، عوامی احتجاجات اور منظم تحریکوں کے ذریعے اپنی اپنی حکومتوں کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ٹھوس اور عملی اقدامات کریں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ حالات اب اس مرحلے سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں جہاں مسلمان صرف تقاریر، کانفرنسوں، احتجاجی مظاہروں یا رسمی مذمتی بیانات تک خود کو محدود رکھیں۔ ان کے مطابق، غزہ میں ہونے والے مظالم کی نوعیت اور شدت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امتِ مسلمہ اپنے اجتماعی رویّے پر ازسرِنو غور کرے اور عملی میدان میں سنجیدہ، منظم اور مؤثر کردار ادا کرے۔

خطابات میں اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا کہ صہیونی رژیم نے بین الاقوامی قوانین، انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے جس بے رحمی کے ساتھ غزہ کے نہتے عوام کو نشانہ بنایا ہے، اس نے امت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ ایسے نازک موقع پر امت کا طرزِ عمل ہی اس بات کا تعین کرے گا کہ وہ تاریخ کے اس کڑے امتحان میں سرخرو ہوتی ہے یا نہیں۔

مقررین نے قرآنِ کریم کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین اور حق کے راستے پر ثابت قدم رہنے والوں کی نصرت و کامیابی کی واضح بشارت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ اور لبنان کے مزاحمتی محاذ پر ڈٹے ہوئے افراد کی استقامت اور قربانیاں اس الٰہی وعدے کی عملی تصویر ہیں، اور بالآخر کامیابی حق کا مقدر ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یہ محض چند افراد یا گروہوں کی آزمائش نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا امتحان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ غزہ کے عوام کامیاب ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ امتِ مسلمہ مظلوموں کی اس پکار پر کس حد تک لبیک کہتی ہے۔ آیا مسلمان اپنے باہمی اختلافات، مسلکی و قومی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ موقف اختیار کرتے ہیں یا نہیں، یہی اس امتحان کا بنیادی معیار ہے۔

مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امت کی بیداری صرف جذباتی ردِعمل تک محدود نہ رہے، بلکہ شعور، حکمت اور منظم جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھے۔ انہوں نے نوجوانوں، علما، دانشوروں اور سماجی تنظیموں پر خاص طور پر زور دیا کہ وہ فلسطین کاز کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کریں، درست معلومات عام کریں اور امت کو عملی اقدام کی طرف رہنمائی فراہم کریں۔

آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اگر امتِ مسلمہ نے اتحاد، صبر اور عملی حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا تو نہ صرف غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت ممکن ہو گی بلکہ یہ جدوجہد امت کی عزت، وقار اور بیداری کا ذریعہ بھی بنے گی۔ مقررین کے مطابق، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے آزمائش کے لمحات میں حق کا ساتھ دیا، اللہ کی مدد اس کے شاملِ حال ہوئی، اور آج بھی یہی وقت ہے کہ امت اپنے عمل سے اس سچائی کو ثابت کرے۔

پیشاور پاکستان

پیشاور پاکستان

تصاویر

DSC_0639 DSC_0632 DSC_0644 DSC_0654 DSC_0656 DSC_0664 DSC_0666 DSC_0667 DSC_0683 DSC_0715 DSC_0721 DSC_0739 DSC_0745 DSC_0749 DSC_0755 DSC_0763 DSC_0775 DSC_0791 DSC_0793

اپنا تبصرہ لکھیں.