اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب
اپنے دفاع کے وقت ہم جنگ سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی امن کی خاطر مذاکرات سے گریز کرتے ہیں
اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ ایران نے کبھی جنگ کی ابتدا نہیں کی اور ہمیشہ مذاکرات کی میز پر اپنے عزم کا ثبوت دیا ہے، صدر نے کہا ہے کہ "ہم پر جنگ مسلط کی گئی۔ اس کے باوجود، ہم نے ثابت کیا ہے کہ اپنے دفاع کے وقت ہم جنگ سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی امن کی خاطر مذاکرات سے گریز کرتے ہیں؛ ہم آخری دم تک اپنے پیارے وطن ایران کے دفاع کے لیے تیار ہیں
اپنے دفاع کے وقت ہم جنگ سے نہیں ڈرتے، اور نہ ہی امن کی خاطر مذاکرات سے گریز کرتے ہیں: صدر ایران کا جنرل اسمبلی سے خطاب
مسعود پزشکیان نے بدھ (23 ستمبر 2026) کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "کل ہی امریکی صدر نے ایران کو دہشت گرد ریاست قرار دیا؛ حالانکہ ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ میرا تعلق ایسے ایران سے ہے جہاں ہمارے رہبر کو بغیر کسی قانونی جواز یا ثبوت کے قتل کر دیا گیا؛ میرا تعلق ایسے ایران سے ہے جہاں ایک اسکول پر بمباری کی گئی۔ میناب (Minab) کے بچوں کو دیکھیں— وہ بچے جن پر بمباری کی گئی اور انہیں قتل کر دیا گیا۔ اسرائیل اور امریکہ نے اپنے ہتھیاروں سے ہمارے بچوں کو شہید کیا؛ ہمارے بچوں کا کوئی جرم نہیں تھا۔"
صدر نے کہا کہ "لامرد (Lamerd) ایران کا ایک چھوٹا سا شہر ہے؛ ہمارے بچے ایک اسپورٹس ہال میں ورزش کر رہے تھے جب امریکہ نے کلسٹر بموں (cluster bombs) کا استعمال کرتے ہوئے، جو ہزاروں ٹکڑوں میں بکھر گئے، اس عمارت پر بمباری کی ۔ انہوں نے ہمارے سائنسدانوں، ہمارے عوام، ہماری خواتین اور ہمارے بچوں کو شہید کیا۔
دہشت گرد اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ہمیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں؛ ہم نے صرف اپنا دفاع کیا ہے—ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔" دشمن کی بزدلانہ کارروائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر نے کہا: "امریکہ اور اسرائیل نے جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ہمارے ملک پر حملہ کیا، لیکن ہمارے عوام نے پوری طاقت سے اپنے وطن کا دفاع کیا۔ انہوں نے ہم پر حملہ کیا لیکن ہم ان کے سامنے نہیں جھکے؛ ہم نے ان کے حملوں کا جواب دیا، مگر ہم نے عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔"
صدر پزشکیان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے ہمارے اسکولوں، ہسپتالوں، سائنسی مراکز، پلوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے—جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ "اب وقت آگیا ہے کہ دوسروں کے خام خیالی پر مبنی قیاس آرائیوں پر انحصار کرنے کے بجائے عقل و دانش اور حقیقت پسندی کا راستہ اپنایا جائے۔ ایران نے کبھی جنگ کی ابتدا نہیں کی اور ہمیشہ مذاکرات کی میز پر اپنے عزم کا ثبوت دیا ہے۔ ہم پر جنگ مسلط کی گئی؛ تاہم ہم نے ثابت کیا ہے کہ نہ تو ہم اپنے دفاع کے لیے جنگ سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی امن کی خاطر مذاکرات سے گریز کرتے ہیں۔ ہم اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اپنے پیارے وطن ایران کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔"
خواتین و حضرات!
اس سربراہی اجلاس کا موضوع 'اعتماد کی بحالی' ہے۔ اعتماد محض الفاظ سے قائم نہیں ہوتا؛ اس کے لیے دوہرے معیار کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس خطے میں جوہری بم اور دیگر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اسرائیلی حکومت کے پاس ہیں، اس کے باوجود معائنے کے مطالبات ایران سے کیے جاتے ہیں! اسرائیل نے غزہ میں 70 ہزار لوگوں کا قتلِ عام کیا، مگر مذاکرات کی میز پر موجود ایران کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا! اسرائیل کے پاس ایٹم بم موجود ہیں، وہ این پی ٹی (NPT) کا رکن نہیں ہے، اور اپنی شرمناک تاریخ میں اس نے کبھی کسی انسپکٹر کو اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی؛ اس کے باوجود اسے اربوں ڈالر کے مفت ہتھیاروں سے نوازا جاتا ہے اور اسے کسی بھی دارالحکومت پر بمباری کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے!
میں دہراتا ہوں: جوہری بم اسرائیل کے پاس ہیں، مگر انسپکٹر ایران میں موجود ہیں! قتل اسرائیل کرتا ہے، مگر پابندیاں ایران پر لگائی جاتی ہیں! المیہ یہ ہے کہ یہ بات جس کسی کو بھی بتائی جائے تو وہ اسے مضحکہ خیز سمجھے گا: پابندیاں غریب اور بے گناہ عوام کو نشانہ بناتی ہیں اور عوام کو مذموم عزائم کا شکار بناتی ہیں۔
اگر ہم انصاف کے خواہاں ہیں تو دوستوں اور حریفوں، سب کو ایک ہی معیار سے پرکھا جانا چاہیے، اور انسانی حقوق کو جغرافیائی سیاسی (geopolitical) رقابت کا ہتھکنڈہ نہیں بننا چاہیے۔ ایران کسی خاص مراعات کا طلبگار نہیں ہے؛ وہ صرف مساوی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے—اور ان حقوق کے ساتھ عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو بھی قبول کرتا ہے۔
اپنی طویل تاریخ کے دوران ایران نے اس واضح حقیقت سمجھ لیا ہے کہ طاقت کے بغیر دنیا ایک خطرناک جگہ ہے، لیکن ایسی دنیا جو صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہو، وہ کبھی بھی پائیدار امن تک نہیں پہنچ سکتی۔ اگر اقوام کے درمیان اعتماد ختم ہو جائے تو طاقتور ترین فوجیں بھی دیرپا امن قائم کرنے سے قاصر رہیں گی۔
اگر بین الاقوامی قانون کا نفاذ صرف تب ہو جب وہ طاقتوروں کے مفادات کے مطابق ہو، تو مزید ممالک اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ انہیں تحفظ کے لیے صرف اپنی طاقت پر انحصار کرنا چاہیے—اور یہ ہم سب کے لیے ایک زیادہ خطرناک دنیا کی شروعات ہوگی۔ ہمیں اکیسویں صدی کو جبر پر مبنی سیاست اور آمرانہ حکمرانی کے دور میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے؛ ہمیں ایسی دنیا تعمیر نہیں کرنی چاہیے جہاں فوجی طاقت قانون کی جگہ لے لے، سفارت کاری کی جگہ پابندیاں لے لیں، سیاست کی جگہ دہشت لے لے اور مکالمے کی جگہ جنگ لے لے۔
ایران اپنی طاقت برقرار رکھے گا، اس کے باوجود ہم دنیا کو کسی اور جنگ کی طرف نہیں بلکہ امن اور انصاف کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ہم ایسا کمزوری کے باعث نہیں بلکہ اپنی طاقت پر اعتماد اور اس ادراک کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں کہ اس خطے میں کوئی بھی تنہا محفوظ نہیں رہ سکتا؛ ہم یا تو مل کر سلامتی کا تحفظ کریں گے یا پھر مل کر عدم تحفظ کا سامنا کریں گے۔
ہم ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں سلامتی، انصاف اور انسانی وقار تمام اقوام کے مشترکہ اور ناقابلِ تنسیخ حقوق میں شامل ہوں۔ ایک ایسا مستقبل جس میں کسی قوم کو پسماندہ نہ رکھا جائے، طاقت کے شور و غل میں کسی کی آواز دب نہ جائے، اور کسی طاقت کو یہ حق حاصل نہ ہو کہ وہ دوسروں کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔
ایک ایسا نظام جو "بین الاقوامی" کہلانے کا مستحق ہو، اسے اقوام کی برابری، انصاف، مساوات اور انسانیت کے اجتماعی عزم پر مبنی ہونا چاہیے؛ کیونکہ جو امن سب کے لیے نہ ہو تو وہ امن نہیں، اور جو انصاف سب کا احاطہ نہ کرے وہ انصاف نہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ "امریکی صدر کے کل کے ریمارکس غنڈہ گردی کے رویے، طاقت کی منطق اور عالمی رائے عامہ، دانشوروں، سیاست دانوں کے درمیان اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی کی واضح علامت ہیں۔
انہیں جان لینا چاہیے کہ دھمکیاں ہماری قوم کو مزید متحد، مضبوط اور مزاحمت میں اضافہ کر یں گی ، اور وہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ ایرانی قوم طاقت کے سامنے سرنہیں جھکائے گی اور جارح کو پچھتانے پر مجبور کر دے گی۔
صدر نے کہا: "ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ جان لو کہ ہم تماری دھونس ہرگز قبول نہیں کریں گے۔"
اپنا تبصرہ لکھیں.