یزد اسلامی جمہوریہ ایران کے ان تاریخی شہروں میں سے ایک ہے جو آج بھی اپنی تاریخی صداقت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاریخی ساخت اور قدیم روایات کے علاوہ اس شہر میں ماضی بعید سے کچھ دستکاریاں بھی رہ گئی ہیں، جن میں سے یہاں کا"زری کپڑا"ایک ایسی مصنوعات ہے،جسکی وجہ سے یزد صدیوں سے پیداواری مراکز میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔ بلاشبہ یہ شہر تاریخی طور پر دیگر کئی قسم کے کپڑوں کی تیاری کے لیے بھی مشہور ہے، جیسے ترمے، درائی، احرامی، قلاویز، شالیں اور چادروغیرہ۔
زری کا کپڑا اور اس کے بنانے کا طریقہ
یزدی زری کپڑا ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے، جس کی بنائی میں سونے کے پتلے ریشے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ کپڑا بہت قیمتی اور مہنگا ہے۔ زری فیبرک کی تیاری میں روایتی ڈیزائن استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان ڈیزائنوں کو "دستور" کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے سے، اس قسم کے کپڑے پر پیچیدہ نمونوں کا اطلاق ہوتا رہا ہے تاکہ ڈیزائن اتنے ہی قیمتی اور منفرد ہوں جتنے کہ خود کپڑے! بعض اوقات ان کپڑوں پر یہ نمونے فردوسی کی "شاہنامہ" کی کہانیوں سے لیے جاتے ہیں، جو کتاب ایران کیاعظیم "حماسہ" کہلاتی ہے، یا شہزادوں، شکار کے میدانوں، جانوروں اور پرندوں کے مناظر بھی اور اسلامی، بیت ِجقیہ کے نمونے کثرت سے دیکھے جاتے ہیں۔

زربفت کپڑا 1903ء (1282شمسی) میں بنا اور ایران کے قومی عجائب گھر میں رکھا گیا ہے۔
زری کپڑا دو طرح کی مشینوں سے بُنا جاتا ہے: "روایتی" اور "جیکوارڈ"۔ روایتی مشین، جسے "دستور" بھی کہا جاتا ہے، ٹیکسٹائل مشینوں سے ملتی جلتی نظر آتی ہے۔ روایتی مشینوں کے لیے دو مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے: ایک بنکر(بنانے والا اور دوسرا "بالی کھینچنے والے"(دھاگہ چلانے والا) کے طور پر۔ بالی کھینچنے والا مشین کے اوپری حصے میں رہتا ہے اور پیٹرن میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جیکوارڈ مشینیں نئی ہیں اور کپڑوں کو بُننے کے لیے درکار لاگت اور وقت میں کمی کی وجہ سے ان کا استعمال وسیع ہو گیا ہے۔ زری فیبرک بنانے والے ماہرین کے مطابق، روایتی مشین سے روزانہ 30 مربع سینٹی میٹر کپڑا بُنا جاتا ہے، جب کہ ایک جیکوارڈ مشین اس مقدار کو ایک مربع میٹر تک بڑھا دیتی ہے۔
یزدی زری کپڑے کی تاریخ
سونے کی بُنائی کا فن بہت پرانا ہے اور اس کی ابتداء اسلام سے پہلے تک جاتی ہے۔ ساسانی دور (تیسری سے ساتویں صدی عیسوی) کے ریشمی سونے کے کپڑے کے نمونے باقی رہ گئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت یہ کپڑا ایران کے بہترین ٹیکسٹائل کے طور پر دنیا بھر میں مشہور تھا۔ ایران میں اسلام کی آمد (7ویں صدی عیسوی) کے بعد زربفت کے کپڑوں کی بُنائی میں کچھ عرصے کے لیے کمی آنا شروع ہوئی، لیکن سلجوقی دور (11ویں اور 12ویں صدی عیسوی) میں اس میں دوبارہ اضافہ ہوا اور اس کی بنائی کے لیے مختلف شکلیں استعمال کی گئیں۔ اس زمانے میں بُنائی کے طریقے اتنےنفیس اورپرفیکٹ تھے کہ اس سے زری کپڑوں کا مشاہدہ ہر دیکھنے والے کو حیران کر دتا تھا۔ بعد ازاں صفوی دور (16ویں صدی عیسوی) میں سونے کی بُنائی کا فن اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ اس وقت، کپڑے بننے والے خصوصی طور پر دربار کے لیے سونے کے کپڑے بُننے میں مصروف رہتےتھے۔ 19ویں اور 20ویں صدی میں ٹیکسٹائل کی جدید مشینوں کے آنے سے سونے کے کپڑے جو کہ بہت مہنگے تھے، سستے کپڑوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے، لیکن حالیہ دہائیوں میں اس فن کو زندہ کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

زری کپڑا بنانے کی مشین
ایران کے شہر اصفہان، کاشان اور یزد میں زری کپڑے کی بنائی کےمراکز ایران کے اہم اور روایتی مراکز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ماضی میں، ان شہروں میں تیار ہونے والے زری کپڑے اس قدر اعلیٰ معیار کے ہوتے تھے کہ تاجر انہیں دنیا کے دور دراز علاقوں میں لے جاتے تھے اور انہیں قیمتی اشیاء کے طور پر اپنے امیر گاہکوں کو بیچ دیتے تھے، جو کہ بنیادی طور پر بادشاہ اور درباری ہوتے تھے۔ "غیاس الدین نقشبند یزدی" اور ان کے بیٹے صفوی دور میں زری کے سب سے قیمتی کپڑے کے تخلیق کار تھے اور ان کا فن آج بھی اس شعبے کے فنکاروں میں مشہور ہے۔ غیاث الدین نقشبند زری بُنائی کے علاوہ ریشم، دری اور ترمہ کے کپڑے بُننے میں بھی ماہر تھے اور انہوں نے یزد شہر میں بہت سے شاگردوں کو اپنا فن سکھایا۔ ان کی خدمات اس قدر اہم تھیں کہ کچھ لوگ انہیں ایران میں ٹیکسٹائل کا بانی مانتے ہیں۔ زری بُنائی کا فن غیاث الدین کے زمانے سے ہی یزد میں ایک مستند فن کے طور پر محفوظ ہے اور کچھ خاندان اس میدان میں موروثی فنکار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
آج بھی زری کپڑا ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ پیداواری طریقہ، کپڑے میں قیمتی دھاتوں کے استعمال کے ساتھ، مصنوعات کی حتمی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح، اگرچہ یہ طریقہ تقریباً نصف صدی قبل تک سجاوٹ یا کپڑوں کی تیاری کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن اب اس کی مصنوعات زیادہ جمع ہو چکی ہیں۔