سترہویں صدی میں صفوی دور کے دوران تعمیر ہونے والا یہ چرچ عیسائی اور ایرانی فنِ تعمیر کا ایک شاندار امتزاج ہے۔
سترہویں صدی میں صفوی دور کے دوران تعمیر ہونے والا یہ چرچ عیسائی اور ایرانی فنِ تعمیر کا ایک شاندار امتزاج ہے۔
میرا یہ ماننا تھا کہ ایران میں شاید مختلف مذاہب کے لیے زیادہ گنجائش نہیں ہوگی، مگر آرمینیائی رسولی کلیسا نے یہ تاثر مکمل طور پر بدل دیا۔ سترہویں صدی میں صفوی دور کے دوران تعمیر ہونے والا یہ چرچ عیسائی اور ایرانی فنِ تعمیر کا ایک شاندار امتزاج ہے۔
یہاں کی محرابیں، نفیس نقش و نگار اور ہندسی ڈیزائن بائبل کے مناظر کو بالکل ویسے ہی پیش کرتے ہیں جیسے اصفہان کی مساجد میں اسلامی فن جھلکتا ہے۔ مگر سب سے زیادہ متاثر کن چیز اس مقام کا پُرسکون ماحول ہے، جہاں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ خاموشی اور احترام کے ساتھ اس ورثے کو دیکھتے ہیں۔
یہ صرف ایک چرچ نہیں، بلکہ ایران کی تہذیبی وسعت، مذہبی رواداری اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی ایک زندہ علامت ہے
اپنا تبصرہ لکھیں.