سندھی ادب پر پر ایک نشست اور عطار کی پندنامه کتاب کی رونمایی تقریب کا انعقاد
سندھی ادب پر عطار کے اثرات « کے عنوان سے ایک ادبی نشست اور عطار کے» پندنامہ کے سندھی ترجمے کی نقاب کشائی اتوار ۲۱ اپریل ۲۰۲۴ کو حیدرآباد کے ایرانی ثقافتی مرکز میں منعقد ہوئی۔

سندھی ادب پر عطار کے اثرات « کے عنوان سے ایک ادبی نشست اور عطار کے» پندنامہ" کے سندھی ترجمے کی نقاب کشائی اتوار ۲۱ اپریل ۲۰۲۴ کو حیدرآباد کے ایرانی ثقافتی مرکز میں منعقد ہوئی۔
اس تقریب میں ایرانی ثقافت اور ادب کے شائقین نے شرکت کی، جن میں سندھ کے معروف اسکالر اور مصنف اور سابق وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی، پاکستان کے ممتاز محقق اور اسکالر جمیل چاندیو؛ سنده یونیورستی کے پروفیسر داکتر اشرف سمون ۔ سنده یونیورستی میں سندهی کے پروفیسر داکتر مخمور بخاری؛ سجاد نظامانی، فارسی کے پروفیسر اور مترجم؛ نذیر ناز، سنده کے ایک ناول نگار اور ممتاز مصنف؛ اور یوسف سندهی جیسی ممتاز شخصیات شامل تهیں۔
جس میں « پندنامہ» کے سندھی ترجمه اور اس کی اهمیت پر گفتگو هوئی۔ انهوں نے سندهی ادب پر خواجه فرید الدین عطار کے اثرات پر بهی بات کی۔
سندھ کے ممتاز ادیب امداد علی سندھی نے سندھی ادب میں عطار کے کردار کی تعریف کی اور ایرانی ثقافتی مرکز کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس طرح کی تقریبات منعقد کر رہے هیں۔
داکتر اشرف سامون نے بهی سیمینار کے موضوع پر مختصر گفتگو کی۔ اگلے مقرر داکتر مخمور بخاری تھے جنہوں نے سندھی ادب پر عطار کے اثرات پر مقالہ پیش کیا۔
آخری مقرر جمیل چانڈیو تھے جنہوں نے عطار کی زندگی اور کاموں پر ایک گھنٹے کا لیکچر دیا۔ تقریب کے دوران « پندنامہ» کے سندھی ترجمہ کی نقاب کشائی کی گئی۔
ترجمہ سجاد نظامانی نے کیا جنہوں نے اس منصوبے پر اپنا ذاتی وقت اور وسائل صرف کئے۔ جناب نظامانی نے سعدی کی « گلستان» کا سندھی میں ترجمہ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
یہ تقریب سندھی ادب اور ثقافت پر عطار کے کاموں کے لازوال اثرات کا ثبوت تھی۔
|
اپنا تبصرہ لکھیں.