تعزیتی مجلس برای ایصال ثواب شهید آیت الله رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی یاد میں خانه فرهنگ اسلامی جمهوریه ایران، حیدرآباد میں منعقد هوئی

تعزیتی مجلس برای ایثال ثواب شہید آیت اللہ رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی یاد میں خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران، حیدرآباد میں منعقد ہوئی
منگل، یکم خرداد 1403 بمطابق 21 مئی 2024 کو آیت اللہ ابرھیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی یاد میں تعزیتی مجلس حیدرآباد میں واقع
خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران میں منعقد ہوئی۔ مجلس میں قرآنی ادارہ "صراط الہی" کے طلبہ نے بھی شرکت کی اور شہداء کے ایصال ثواب کے لیے
قرآن پاک کی تلاوت کی۔ ھال میں محدود جگہ ہونے کے باوجود، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد افراد شریک ہوئے،
جن میں حجت الاسلام سید حیدر عباس زیدی (امام جمعہ مسجد حضرت ابوالفضل اور مدیر حوزہ علمیہ مشارع العلوم)، حجت الاسلام سجاد جوادی (رئیس مرکز تحقیقات اسلامی جامشورو)،
حجت الاسلام عرفانی (خطیب و امام جماعت محفل حسینی)، حجت الاسلام عمران دستی (امام جمعہ اور مدیر قرآنی ادارہ جماران)، یوسف سندھی (مصنف)،
پروفیسر بائ خان شیر (ریٹائرڈ پروفیسر اور پاکستان-چین اسکول کے مدیر)، سید پسند علی رضوی (سیکریٹری اعلیٰ اصغریہ تنظیم علم و عمل پاکستان)،
محمد حسین حسینی (صدر اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان)، سید منور علی جعفری (مدیر ماہنامہ عقیدت)، اور سجاد نظامانی (فارسی زبان کے استاد) شامل تھے۔
انہوں نے خانہ فرہنگ کے ثقافتی اتاشی رضا پارسا کو ایرانی قوم اور حکومت کی جانب سے تعزیت پیش کی۔
مہمانوں نے ایک یادگاری کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے جو اس سانحہ کی یاد میں کھولی گئی تھی۔
مجلس کے دوران سجاد نظامانی، حجت الاسلام عرفانی، حجت الاسلام سید حیدر عباس زیدی، سید پسند علی رضوی، حجت الاسلام عمران دستی، اور حجت الاسلام سجاد جوادی نے
آیت اللہ رئیسی کی شخصیت اور ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اسلامی دنیا کے اتحاد، اقوام متحدہ میں قرآن کے دفاع، اور فلسطین کی مزاحمت کی حمایت میں
ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اخلاص، ولایت پذیری، اور قرآن و اہل بیت (ع) کی پیروی آیت اللہ رئیسی اور دیگر شہداء کی نمایاں خصوصیات تھیں،
جن کے باعث اللہ نے انہیں شہادت کا انعام عطا کیا۔
تقریب کے اختتام پر مدیر کل خانہ فرھنگ حیدرآباد رضا پارسا نے مہمانوں کی شرکت کا شکریہ ادا کیا اور اسے اپنی، ایرانی قوم، اور حکومت کے لیے تسلی کا ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جیسا کہ رہبر معظم انقلاب نے فرمایا، یہ واقعہ ملک کے امور میں کسی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گا، اور جلد ہی انتخابات کے ذریعے مرحوم صدر کا جانشین
عوام کے ووٹوں سے منتخب کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں آیت اللہ رئیسی اور امیر عبداللہیان کے حالیہ دورہ پاکستان کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستانی قوم اور
حکومت نے ایرانی وفد کا شاندار استقبال کیا، جو دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ محبت اور قربت دونوں ہمسایہ ممالک
کے درمیان ثقافتی، اقتصادی، اور دیگر شعبوں میں مزید تعاون کی راہیں ہموار کرے گی۔ تقریب کا اختتام امام زمانہ (عج) کی سلامتی اور ان کے ظہور کی دعا کے ساتھ ہوا۔
اپنا تبصرہ لکھیں.