• Dec 19 2025 - 16:40
  • 13
  • مطالعہ کی مدت : 8 minute(s)

کیا آپ جانتے ہیں کہ سال کی سب سے لمبی رات کیوں منائی جاتی ہے؟

شبِ یلدا کا نام اور اس کی اصل تاریخ کہاں سے آئی؟

شبِ یلدا یا شبِ چِلّہ ایران کے قدیم ترین تہواروں میں سے ایک ہے، جو عیدِ نوروز اور چہارشنبہ سوری کی طرح ایران کی قدیم تاریخ اور تہذیب کی یادگار ہے۔ یہ رات سال کی تمام راتوں میں سب سے طویل ہوتی ہے اور ایران اور گردو نواح کے ممالک کے لوگ ہر سال اسے خوشی سے مناتے آئے ہیں۔ اگر آپ ایران کے مختلف شہروں اور دنیا کے دیگر ممالک میں شبِ یلدا کی تاریخ اور رسم و رواج کے بارے میں مزید پڑھنا چاہتے ہیں ، تو ہمارے ساتھ رہیے۔ شبِ یلدا کا مطلب : یلدا ایک سریانی لفظ ہے جس کے معنی پیدائش یا جنم ہیں۔ سریانی زبان پہلے مسیحی لوگوں میں بولی جاتی تھی۔ یہ مطلب لغتوں اور تاریخی کتابوں کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے۔ مشہور عالم اور ماہرِ تقویم ابوریحان بیرونی شبِ یلدا کو میلادِ اکبر کہتے ہیں، جس سے ان کی مراد سورج کی پیدائش ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنی کتاب الآثار الباقیہ میں لکھی ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور اس کے فارسی ترجمے بھی موجود ہیں۔ ابوریحان بیرونی نے اس کتاب میں مختلف قوموں کے کیلنڈر اور تقویم کے بارے میں بتایا ہے۔ لفظ شب چِلّہ کا مطلب شبِ چِلّہ دراصل وہی شب یلدا ہے۔ چونکہ اس رات کے بعد سردیوں کی بڑی چِلّہ شروع ہوتی ہے، اسی لیے اس رات کو شبِ چِلّہ کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں ایرانیوں کے پاس ایک عام اور سادہ سا کیلنڈر بھی تھا، جو زیادہ تر زراعت اور مویشی بانی میں استعمال ہوتا تھا۔ وہ سال کے دو حصوں کو چِلّہ کہتے تھے: ایک گرمیوں کی چِلّہ جو ماہِ تیر سے شروع ہوتی تھی، اور دوسری سردیوں کی چِلّہ جو ماہِ دی سے شروع ہوتی تھی۔ہر چِلّہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا: بڑی چِلّہ اور چھوٹی چِلّہ۔ پہلے چالیس دن کو بڑی چِلّہ اور اس کے بعد کے بیس دن کو چھوٹی چِلّہ کہا جاتا تھا۔ سردیوں کی بڑی چِلّہ، جو شبِ یلدا کے فوراً بعد شروع ہوتی ہے، دراصل سردیوں کا آغاز ہوتی ہے اور اس دوران سردی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بڑی چِلّہ دس بہمن تک رہتی ہے۔ اس کے بعد چھوٹی چِلّہ شروع ہوتی ہے جو یکم اسفند تک چلتی ہے۔ چھوٹی چِلّہ میں سردی نسبتاً کم ہوتی ہے اور نقصان بھی کم پہنچتا ہے۔ بڑی چِلّہ کے آخری چار دن اور چھوٹی چِلّہ کے ابتدائی چار دن کو چار چار کہا جاتا ہے، اور اسی دوران سردی کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ شبِ یلدا کی تاریخ شبِ یلدا کی تاریخ بہت قدیم زمانوں تک جاتی ہے، لیکن اس کی صحیح عمر معلوم نہیں۔ کچھ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق شبِ یلدا کی روایت سات ہزار سال پرانی ہے۔ وہ اس بات کے ثبوت کے طور پر قدیم دور کے مٹی کے برتنوں کا حوالہ دیتے ہیں، جن پر ایرانی مہینوں سے جڑے جانوروں کی تصویریں بنی ہوتی تھیں، جیسے مینڈھا اور بچھو۔ اگرچہ ایسی تصویریں کتبوں اور آثارِ قدیمہ میں کم ملتی ہیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ شبِ یلدا سے جڑی رسومات کو سات ہزار سال پہلے تک تلاش کیا جا سکتا ہے۔ان سب باتوں کے باوجود، شبِ یلدا کو باقاعدہ تہوار کی حیثیت تقریباً 500 سال قبل مسیح میں ملی۔ یہ تہوار داریوش اوّل کے دور میں قدیم ایرانیوں کے سرکاری کیلنڈر میں شامل ہوا۔ یہ کیلنڈر بابلی اور مصری گاہ شماری سے متاثر تھا۔ پہلی روایت: روشنی اور اجالے کی تاریکی پر فتح ایک روایت کے مطابق شبِ یلدا روشنی کی تاریکی پر جیت کی علامت ہے۔ قدیم زمانے میں لوگوں کی زندگی زیادہ تر زراعت اور مویشی بانی پر منحصر تھی، اس لیے موسم اور آب و ہوا ان کے لیے بہت اہم تھے۔ لوگ تجربے اور مشاہدے سے رات اور دن اور موسموں کی تبدیلی کو سمجھتے تھے۔ وہ اپنی زندگی پر روشنی، تاریکی، گرمی اور سردی کے اثرات کو دیکھتے تھے۔ ان مشاہدات سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ روشنی، دن اور سورج نیکی اور خالق کی علامت ہیں، جبکہ رات اور سردی بدی اور اندھیرے کی نشانی ہیں۔ ان کے نزدیک روشنی اور تاریکی کے درمیان ہمیشہ کشمکش رہتی ہے۔ لمبے دن روشنی کی جیت اور چھوٹے دن تاریکی کے غلبے کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ خزاں کے آخری دن کو، جو سال کی سب سے لمبی رات ہوتی ہے، جشن مناتے تھے۔ کیونکہ اس کے بعد دن آہستہ آہستہ لمبے ہونے لگتے ہیں اور یوں روشنی کی تاریکی پر فتح ہوتی ہے۔ دوسری روایت: مہر اور میترا (سورج) کی پیدائش کی رات مہر پرستوں کے مطابق شبِ یلدا، میترا (ایزدِ مہر) کی پیدائش کی رات ہے۔ روایت ہے کہ ایک لمبی اور سرد رات میں، میترا ایک چھوٹی اور گہری غار میں ظاہر ہوتا ہے اور سورج کو دنیا میں لاتا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق اسی رات میترا دوبارہ دنیا میں آتا ہے اور دن کے اوقات کو لمبا کر دیتا ہے، جس سے سورج کی برتری ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ تحقیقوں کے مطابق شبِ یلدا ایک پیغمبر کی پیدائش کی رات بھی سمجھی جاتی ہے۔ یہ واقعہ اشکانی دور کے اکیاون ویں سال میں پیش آیا، جو 196 عیسوی کے برابر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پیغمبر رات کے وقت سمندر میں پیدا ہوا اور دو ڈولفن اسے پانی سے باہر لائیں۔ مہر کے مذہب میں پانی کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ایران میں شبِ یلدا کی رسومات اور روایات ایران میں شبِ یلدا کی رسومات وقت کے ساتھ زیادہ تبدیل نہیں ہوئیں اور آج بھی تقریباً اسی طرح منائی جاتی ہیں شبِ یلدا میں آگ جلانا قدیم زمانے میں لوگ کرسی کے گرد بیٹھتے تھے، اس سے بھی پہلے وہ آگ کے گرد جمع ہوتے تھے، اور آج کل ہیٹر اور بخاریاں محفل کو گرم رکھتی ہیں۔ ماضی میں آگ سورج کی علامت سمجھی جاتی تھی اور اسے جلانا سورج کے احترام کے لیے ہوتا تھا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا تھا کہ آگ اندھیرے اور شیطانی طاقتوں کی نحوست دور کرنے کے لیے جلائی جاتی ہے۔ آگ کا مقصد تاریکی کو ختم کرنا اور برے اثرات کو بھگانا سمجھا جاتا تھا۔ شبِ یلدا میں کہانیاں اور ضرب الامثال قدیم زمانے میں شبِ یلدا پر کہانیاں سنانے اور اشعار پڑھنے کی روایت تھی۔ اس رات خاندان کے سب افراد اکٹھے ہوتے اور گھر کے بزرگ سب کو کہانیاں سناتے تھے۔ ایران کے ہر علاقے میں اپنی ثقافت کے مطابق کہانیاں مشہور ہیں۔ مثال کے طور پر آذربائیجان میں حسین کرد شبستری کی کہانیاں پڑھی جاتی ہیں، جبکہ خراسان میں زیادہ تر شاہنامہ کی داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ شبِ یلدا میں فالِ حافظ عام طور پر شبِ یلدا پر خاندان کا کوئی بزرگ دیوانِ حافظ سے فال نکالتا ہے۔ فال لینے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ فال لینے والا دل میں نیت کرتا ہے اور بزرگ دیوان کھولتا ہے۔ دائیں صفحے کے اوپر والی غزل فال کا جواب ہوتی ہے۔ اگر غزل درمیان سے شروع ہو تو پچھلے صفحے سے پوری غزل پڑھی جاتی ہے، اور اگلی غزل کے تین اشعار بھی فال کی گواہی کے طور پر شامل کیے جاتے ہیں۔ غزل پڑھنے کے بعد اس کی تشریح کی جاتی ہے۔ اگر شعر کا مطلب اچھا ہو تو فال کو نیک سمجھا جاتا ہے، ورنہ برا۔ چونکہ حافظ کی زیادہ تر غزلیں عرفانی، محبت بھری اور امید دلانے والی ہوتی ہیں، اس لیے فال عموماً خوش کن ہوتی ہے۔ شبِ یلدا میں شاہنامہ خوانی شبِ یلدا کی ایک اہم اور لازمی روایت شاہنامہ خوانی ہے۔ یہ رسم صدیوں سے ایران میں رائج ہے۔ اگر شاہنامہ کو نقالی کے انداز میں پڑھا جائے تو اس کی دلکشی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ افسوس کہ نقالی کی یہ روایت آج کل ختم ہوتی جا رہی ہے، اور خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے خاندان میں آج بھی کوئی ایسا فرد موجود ہو۔ شبِ یلدا کی دسترخوان (سفرہ) سجانا شبِ یلدا یا شبِ چِلّہ کی سب سے دلکش رسومات میں سے ایک دسترخوان اور اس پر رکھی جانے والی چیزیں ہیں۔ شبِ یلدا کے لیے خاص طور پر انار، تربوز، خشک میوہ جات، یلدا کی مخصوص آجیل اور مختلف قسم کے اسنیکس رکھے جاتے ہیں۔ قدیم زمانے میں شبِ چِلّہ پر ایک دسترخوان بچھایا جاتا تھا جسے میَزد کہا جاتا تھا۔ اس پر تازہ اور خشک پھل، آجیل یا زرتشتی اصطلاح میں لُرک رکھا جاتا تھا۔ لُرک اس دسترخوان کا اہم حصہ تھا اور اسی کو اس جشن کی ضیافت سمجھا جاتا تھا۔ اس دسترخوان پر اس کے علاوہ آتش دان، عطر دان، لوبان دان اور بَرسَم بھی رکھے جاتے تھے۔ بَرسَم دعا پڑھنے کا ایک آلہ ہے جو خاص پودے کی شاخ یا پیتل اور چاندی سے بنایا جاتا ہے۔ شبِ یلدا کے کھانے پینے کی چیزیں شبِ یلدا میں کھانے پینے کی چیزوں کو ہمیشہ خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ انار اور تربوز اس رات کے اہم پھل ہیں، کیونکہ یہ سورج اور برکت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ مختلف خشک پھل جیسے توت، انجیر، آڑو اور خوبانی بھی دسترخوان پر رکھے جاتے ہیں۔ خشک میوہ جات بھی لازمی حصہ ہوتے ہیں، جن میں پستہ، اخروٹ، بادام، فندق، چنے، کشمش، تربوز اور کدو کے بیج، بھنا ہوا گندم اور چنا شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں قدیم زمانے سے لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں اور آج بھی شبِ یلدا کی خاص سوغات سمجھی جاتی ہیں۔ یہ کھانے خوشحالی، صحت اور خوشی کی علامت ہیں اور شبِ یلدا کے دسترخوان کو مکمل کرتے ہیں۔

راولپندی پاکستان

راولپندی پاکستان

تصاویر

اپنا تبصرہ لکھیں.

فونٹ سائز کی تبدیلی:

:

:

: